24/December/2019

لنڈی کوتل جیل میں ایف سی کے تشدد سے خطرناک قیدی ہلاک، اہل خانہ کا لاش کے ہمراہ احتجاج

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لنڈی کوتل جیل میں ایف سی کے تشدد سے خطرناک قیدی ہلاک، اہل خانہ کا لاش کے ہمراہ احتجاج

لنڈی کوتل جیل میں ایف سی کے تشدد سے خطرناک قیدی ہلاک، اہل خانہ کا لاش کے ہمراہ احتجاج

باڑہ (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں خطرناک قیدی کی ہلاکت کے خلاف ورثاء اور مقامی افراد نے احتجاج کیا ہے، دوسری جانب جیل حکام نے کہا ہے کہ مذکورہ شخص فرار ہونے کی کوشش میں گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔

ٹی این این کو مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہلاک نوجوان خاطر خان شنواری کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب 19 دسمبر 2019 کو تحصیل لنڈی کوتل کے سرحدی علاقہ میں بم دھماکہ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔ سکیورٹی ذارئع کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایف سی اہلکار معمول کی گشت پر تھے، دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار تقدیر شہید جبکہ دیگر تین زخمی ہوگئے جن میں نائب صوبیدار راحت گل، سپاہی کامران اور شاہ منیر شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ خاطر خان لگ بھگ ان 10 مشتبہ افراد میں شامل تھا جنہیں 20 دسمبر کی صبح افغان سرحد پر واقع علاقے پسید خیل خونہ کنڈاؤ میں سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں حراست میں لیا گیا تھا۔

سرحد پار افغانستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے روپوش عسکریت پسندوں نے اپنے ترجمان کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ہلاک قیدی خاطر خان شنواری کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ خاطرخان کو تشدد کرکے مارا گیا ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے خاطر خان 10 روز قبل محنت مزدوری کرکے کراچی سے آیا تھا۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکام نے خاطر خان شنواری کے لواحقین کی جانب سے لگائے گئے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ خاطر خان شنواری پر تشدد نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرار کی کوشش میں سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مظاہرین کا احتجاج اس وقت بھی پاک افغان سرحد پر جاری ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ باقی جن افراد کو بم دھماکے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے ان کو بھی رہا کیا جائے۔

دوسری طرف آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم لنڈی کوتل چھاونی پہنچ گئے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق آئی جی ایف سی تھوڑی دیر میں مظاہرین سے مذاکرات کریں گے۔

پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے ایک ٹوئٹ میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تحریک کے کارکنوں کو لنڈی کوتل پہنچ کر احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C