متحدہ عرب امارات میں افغان پناہ گزینوں کا احتجاج
👁️ 159 بار دیکھا گیا
متحدہ عرب امارات میں افغان پناہ گزینوں کا احتجاج
ابوظبی (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے ایف پی) افغانستان سے تقریباً ایک سال قبل نکلنے کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پناہ گزینوں کے لیے ایک رہائشی سہولت میں رہنے والے افغان مہاجرین اور تارکین وطن نے ہفتے کو احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آبادکاری کا عمل سست اور مبہم ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق پیر اور منگل کو سیکڑوں افغانیوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔
2 افغانیوں نے ‘رائٹرز’ کو بتایا تھا کہ ہزاروں افراد امریکا یا دیگر ممالک میں دوبارہ آباد ہونے کے منتظر ہیں۔
رائٹرز کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ابوظبی میں ‘ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی’ کے نام سے رہائشی سہولت کے اندر بچے، خواتین اور مرد احتجاج کر رہے ہیں جبکہ خلیجی عرب ریاست میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
ایک لڑکے نے چھوٹا سا بینر تھامہ ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ‘ایک سال کافی ہے’، مرد اور بچے نعرے لگا رہے تھے کہ ‘ہم انصاف چاہتے ہیں’، اسی طرح ویڈیو میں آنکھوں پر سفید پٹی باندھے دیکھا گیا جس پر لفظ ‘آزادی’ لکھا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ افغانیوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے لیے رہائش کی سہولت میں جیل جیسی صورتحال ہے۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ افغان پناہ گزین تحفظ، سلامتی اور وقار کے ساتھ رہ سکیں۔
ایک افغان شہری نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تقریباً ایک سال سے یہاں حراست میں ہیں اور کیمپ جدید جیل کی طرح ہے، کسی کو بھی باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، ہم نہیں جانتے کہ کب مستقل طور پر کس ملک میں آباد ہوں گے۔
Afghans who were relocated to the UAE during last August's evacuation and are currently based in camps held protests to demand their cases be processed.#TOLOnews pic.twitter.com/wUwkXyTSlr
— TOLOnews (@TOLOnews) August 23, 2022
یو اے ای کے ایک عہدیدار نے تسلیم کیا کہ ان لوگوں میں مایوسی ہے اور کہا کہ ابوظبی، افغانیوں کو امریکا یا کسی دیگر جگہ آباد کرنے کے لیے امریکی سفارت خانے کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی آباد کاری میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ان افغان شہریوں کی شناخت کے لیے کام کر رہا ہے جو امریکا میں دوبارہ آباد ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے معیاری اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے اقدامات کو یقینی بنانے کی کوشش اور محنت کریں گے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ 10 ہزار سے زیادہ افغانیوں کو ابوظبی کی سہولت سے امریکا منتقل کیا گیا تھا، واشنگٹن، یو اے ای اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ ان لوگوں کے لیے دوبارہ آباد کاری کے آپشن تلاش کیے جاسکیں جو امریکا میں منتقلی کے لیے نااہل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بظاہر آباد کاری کا عمل رک جانے کے بعد فروری میں کیمپ سے مظاہرہ شروع ہوا تھا، جس کی وجہ سے امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے دورہ کرکے کہا تھا کہ تمام افغان شہریوں کی دوبارہ آبادکاری اگست تک کردی جائے گی۔
اس دورے کے بعد آباد کاری کا عمل شروع ہوگیا تھا، اُس وقت ابوظبی اور قریبی رہائشی سہولت میں تقریباً 12 ہزار افغان شہری تھے۔
گزشتہ برس اگست میں افغانستان کے طالبان نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جب امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل رہی تھی۔
پیچیدہ عمل
2 افغانیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ سخت کنٹرول والی رہائشی سہولت میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے رہنے والوں کی ذہنی صحت خراب ہو رہی ہے۔
ان دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ ان کی دوبارہ آباد کاری کب کی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیمپ میں موجود لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ معیار کی رہائش، صفائی، صحت، طبی، تعلیم اور خوراک فراہم کی جارہی ہیں۔
یو اے ای حکام نے کہا کہ اس نے افغانستان میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے ہزاروں افغان شہریوں کی عارضی طور پر میزبانی کی پیشکش کی۔
ابوظبی کی سہولت پر موجود کچھ افراد کابل سے فوجی پروازوں کے ذریعے پہنچے تھے، دیگر افراد چارٹرڈ پروازوں پر آئے تھے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افواج کے انخلا سے پہلے اور بعد میں آنے والے بہت سے لوگوں کے معاملات پیچیدہ ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ کے پاس کوئی شناختی دستاویزات نہیں ہیں اور انہیں دوبارہ آباد ہونے سے پہلے جانچ کے عمل سے گزرنے کی ضرورت ہے، جبکہ کچھ کے امریکا یا کسی دوسرے ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے جو انہیں دوبارہ آباد کرنے کا اہل بنائے۔
یو اے ای و دیگر خلیجی ریاستیں عام طور پر مہاجرین کو قبول نہیں کرتیں، امریکی حکام نے کہا ہے کہ کسی افغانی کو افغانستان واپس جانے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا، متحدہ عرب امارات میں کچھ افغان شہری کئی مہینے کے انتظار کے بعد رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بھارت: اعظم گڑھ میں القاعدہ کے نظریات سے متاثر 19 سالہ نوجوان گرفتار
12/September/2026 👁️ 49 بار دیکھا گیا
بھارتی عدالت نے حافظ سعید کے خلاف دو ماہ میں دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیا
12/September/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : دفعہ 144 نافذ، وانا سمیت متعدد شاہراہوں پر آمدورفت بند
12/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
بنوں کے بکاخیل میں کواڈ کاپٹر حملہ، 2 شہری زخمی
12/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
دہشتگردی میں اضافہ ، خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ہارڈ ایریاز قرار
12/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
12/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26287 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15532 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11820 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9121 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7411 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5140 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C