مذہبی جماعتوں کے رہنما قطر میں حماس قیادت سے ملاقاتیں کیوں کر رہے ہیں؟
👁️ 100 بار دیکھا گیا
مذہبی جماعتوں کے رہنما قطر میں حماس قیادت سے ملاقاتیں کیوں کر رہے ہیں؟
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان میں حماس، اسرائیل جنگ پر عوامی احتجاج میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مذہبی جماعتوں کی کال پر مختلف شہروں میں بڑی احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک احتجاجی ریلی سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ویڈیو خطاب بھی کیا۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے قطر میں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات بھی کی ہے۔
اسماعیل ہنیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں کا فلسطینیوں اور قبلہ اول سے نظریاتی تعلق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس نے ‘طوفان الاقصی’ آپریشن کے ذریعے ‘گریٹر اسرائیل’ کا خواب چکنا چور کردیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلسطینیوں کی حمایت میں ریلیوں کا اہتمام کیا۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے تاحال اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازعے پر محتاط ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم مذہبی جماعتوں کی جانب سے عوامی سطح پر احتجاج میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں نے بھی خود کو اس تنازع پر بیانات کی حد تک محدود رکھا اور عوامی احتجاج سے خود کو دور رکھا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بمباری کی مذمت کی تھی جب کہ پاکستان اقوامِ متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادیں پیش کرنے والے ممالک میں بھی شامل رہا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے تنازع کے ‘دو ریاستی حل’ پر بھی زور دیا تھا۔
‘مذہبی جماعتیں ہی عوام کو سڑکوں پر لا رہی ہیں’
مبصرین حماس رہنما کے پاکستان میں عوامی ریلی سے خطاب اور مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کی دوحہ میں اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کو اہم قرار دیتے ہیں۔
قطر میں حماس کی قیادت اسمعیل ھنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات۔
پاکستانی عوام اور بالخصوص جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی طرف غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت ھمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور انکو یقین دلایا کہ ھم اخلاقی سیاسی سفارتی ھر میدان میں آپ کے شانہ… pic.twitter.com/5Bti8yP8fI— Maulana Fazl-ur-Rehman (@MoulanaOfficial) November 5, 2023
عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ حماس قیادت سے پاکستان کے مذہبی رہنماؤں کی ملاقاتیں اور احتجاجی ریلیوں سے خطاب ان کے لیے ایک لحاظ سے حیران کن ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا عام آدمی کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے اور غزہ کے معاملے پر مذہبی رہنماؤں نے سڑکوں کو گرما دیا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پاکستانی عوام کی مقدس مقامات کی وجہ سے فلسطینیوں کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے اور مذہبی جماعتیں اسی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ قومی جماعتیں عوامی مسائل اور جذبات کی عکاسی میں اکثر پیچھے رہتی ہیں اور اسی بنا پر مذہبی اور علاقائی جماعتیں پاکستان میں اپنی اہمیت بنائے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پاکستان کا غزہ کی صورتِ حال پر محتاط ردَعمل اس وجہ سے بھی ہے کہ ہماری حکمراں اشرافیہ اس انتظار میں تھی کہ سعودی عرب، اسرائیل سے تعلقات استوار کرے تو اسی گھوڑے پر سوار ہو کر اسلام آباد بھی تل ابیب سے مراسم بنا لے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتی رہی ہے۔
‘مؤقف میں ہم آہنگی ہونی چاہیے’
حماس قائدین سے پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ یہ عجیب صورتِ حال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن قطر میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور حماس رہنما پاکستان میں عوامی ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں جب کہ حکومت کی حکمتِ عملی اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی و مذہبی رہنماؤں، حکومت اور دفترِ خارجہ کے درمیان اس قسم کے معاملات میں ہم آہنگی ہونی چاہیے کہ کتنا آگے جانا ہے اور کہاں محتاط رہنا ہے۔
‘پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی حماس سے زیادہ قربتیں ہیں’
سابق سفارت کار عاقل ندیم کہتے ہیں کہ حماس چوں کہ نظریاتی طور پر ‘اخوان المسلمون’ کے قریب تصور کی جاتی ہے اس وجہ سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں ان سے زیادہ ہمدردی ظاہر کر رہی ہیں۔
اُن کے بقول یہی وجہ ہے کہ حماس رہنماؤں سے ملاقاتوں کے علاوہ اُن کے پاکستان میں احتجاجی ریلیوں سے خطاب کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سیاسی جماعتیں اس بنا پر بھی ایسے معاملات پر محتاط رہتی ہیں کہ انہیں مستقبل میں حکومت میں آنا ہوتا ہے اور سخت بیانات اس وقت ان کی مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ غزہ کے معاملے پر پاکستان کی حکومت کا ردِعمل بھی روایتی اور محتاط رہا جس کی وجہ معاشی مشکلات اور اسلام آباد کا سعودی عرب اور امارات کی پالیسی سے آگے نہ جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور امارات کے حماس سے اچھے مراسم نہیں ہیں اس بنا پر پاکستان اپنے روایتی مؤقف کو اپناتے ہوئے حماس کی حمایت میں بہت آگے نہیں گیا ہے۔
عاقل ندیم کہتے ہیں کہ عرب ممالک پر معاشی انحصار کے علاوہ اسلام آباد کے محتاط رویے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فلسطینی قیادت اور عرب ممالک مسئلہ کشمیر پر زیادہ بات نہیں کرتے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 175 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8831 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4565 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3275 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2454 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2096 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1900 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C