27/January/2026

مشرقِ وسطیٰ: سعودی-مصر-پاکستان اور ترکی دفاعی معاہدے سے 'اسلامی نیٹو' کے امکانات

👁️ 289 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مشرقِ وسطیٰ: سعودی-مصر-پاکستان اور ترکی دفاعی معاہدے سے 'اسلامی نیٹو' کے امکانات

مشرقِ وسطیٰ: سعودی-مصر-پاکستان اور ترکی دفاعی معاہدے سے 'اسلامی نیٹو' کے امکانات

ریاض (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو)  مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے آغاز میں سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داوؤس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں ''باہمی دلچسپی کے متعدد امور‘‘ پر گفتگو ہوئی۔

 

قوی امکان ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ''بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی دعوت، جسے دونوں پہلے ہی قبول کر چکے ہیں، پر تبادلہ خیال کیا، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے کی تفصیلات پر بھی بات چیت ہوئی۔

 

اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود آئندہ دنوں میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ ریاض کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

اگر صومالیہ کو ریاض اور قاہرہ کے درمیان اس معاہدے میں شامل کر لیا گیا، تو اس سہ فریقی معاہدے سے افریقی کنارے پر اہم آبی گزر گاہ باب المندب آبنائے کے حوالے سے سعودی عرب اور مصر کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے جوڑتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔

 

‘اسلامی نیٹو’

 

میڈیا ادارے بلومبرگ کے مطابق ترکی بھی ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے موجودہ ''اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘‘ میں شمولیت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی رکھتا ہے۔

 

بعض حلقے اسے ''اسلامی نیٹو‘‘ کا نام دے رہے ہیں (یعنی شمالی اوقیانوس کے دفاعی اتحاد نیٹو کے طرز پر) اور اگر یہ سہ فریقی معاہدہ طے پا گیا تو، اس میں پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور ترکی کی عسکری طاقت یکجا ہو جائیں گی۔

 

اطالوی سیاسی مشیر، مصنف اور جیو پولیٹیکل ماہر سرجیو ریسٹیلی نے جنوری میں دی ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا: “یہ محض علامتی اتحاد نہیں ہو گا۔ یہ جوہری صلاحیت، اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں پر کنٹرول، بیرونی عسکری کارروائیوں کی صلاحیت اور نظریاتی اثر و رسوخ کو بھی یکجا کرے گا۔”

 

ان کے مطابق، ''یہ مجموعی صلاحیتیں مشرقی بحیرہ روم سے لے کر بحیرہ احمر اور بحرِ ہند تک پھیلا ہوا ایک بین علاقائی سکیورٹی محور تشکیل دیں گی، جو مسلم اکثریتی ممالک میں اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی اتحاد ہوگا اور یہ لازماً امریکہ کے اتحادیوں اور غیر رسمی علاقائی توازن کو بھی چیلنج کرے گا۔‘‘

تاہم لندن میں قائم رسک اور انٹیلیجنس کمپنی 'دی انٹرنیشنل انٹرسٹ' کے مینیجنگ ڈائریکٹر سامی حمدی کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے نئے دفاعی معاہدوں کی بنیادی وجہ امریکی سکیورٹی ڈھال کا کمزور ہونا ہے۔

 

حمدی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، “خطے میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ اب خلیجی ریاستوں کے دفاع کے لیے امریکہ پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔”

 

انہوں نے سن 2019 کا حوالہ دیا جب یمن کے حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کیے تھے، تاہم اس کے بعد امریکہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے ستمبر 2025 کا بھی ذکر کیا جب امریکہ کے قریبی اتحادی اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا۔

 

جیو پولیٹیکل اختلافات

 

ادھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر سوڈان اور یمن میں متحارب دھڑوں کی حمایت کے حوالے سے ۔

 

دسمبر میں سعودی عرب نے یمن کے صوبے حضرموت میں امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے زیرِ کنٹرول ایک فوجی کیمپ پر فضائی حملے کیے۔

 

اسی ماہ کے آغاز میں اطلاعات سامنے آئیں کہ ریاض نے سوڈان کی فوج کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے پاکستان اور سوڈان کے درمیان 1.5 ارب ڈالر کا اسلحہ معاہدہ پیش کیا، جبکہ امارات پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی مدد کا الزام ہے، البتہ ابوظبی اس کی تردید کرتا ہے۔

 

ادھر نئے معاہدوں کی دوڑ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے حریف بھارت کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت بھارت نہ صرف امارات کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس کا خریدار بن گیا ہے بلکہ جوہری تعاون میں بھی اس کا قریبی شراکت دار بن چکا ہے۔

 

حمدی کے مطابق، “میرا خیال ہے کہ امارات اور بھارت کا یہ معاہدہ محض فوجی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔”

 

انہوں نے مزید کہا، “سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کے تناظر میں، امارات یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اگرچہ جغرافیائی طور پر سعودی عرب بڑی طاقت ہے، لیکن امارات اب بھی عالمی سطح پر مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔”

 

کوئی بڑے حقیقی اختلافات نہیں ہیں

 

ان مختلف اتحادوں اور باہمی مفادات کے تصادم کے باوجود یورپی کونسل میں محکمہ خارجہ میں خلیجی امور کی محقق سینزیا بیانکو کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر ریاض اور ابوظبی کے درمیان کسی بڑی دراڑ کا تصور مشکل ہے۔

 

انہوں نے کہا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب دونوں ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔"

 

سعودی عرب کے ممکنہ نئے سکیورٹی شراکت دار ترکی کے بھی امارات کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اسی لیے بیانکو کے مطابق ان نئے دفاعی معاہدوں سے سعودی عرب اور امارات کے درمیان کوئی حقیقی ٹوٹ پھوٹ پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔

 

انہوں نے آخر میں کہا، “اور اگر ہم اتحادی سیاست پر غور کریں، تو امریکہ کی حمایت کے بغیر آگے بڑھنا بھی آسان نہیں ہے۔”

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، نئے دفاعی معاہدوں کا ممکنہ اثر کسی حد تک محدود ہی رہے گا۔

 

حمدی کا کہنا ہے کہ “اسلامی نیٹو کا تصور کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔”

 

 ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ انفرادی طاقتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور مفادات کا فرق بدستور موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “یہ معاہدے دراصل زیادہ تر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کسی حد تک خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش سے متعلق ہیں۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C