مولانا نظریاتی جنگ جیت چکے! (آصف اقبال انصاری)
👁️ 100 بار دیکھا گیا
مولانا نظریاتی جنگ جیت چکے! (آصف اقبال انصاری)
27 اکتوبر سے کراچی سے شروع ہونے والا “آزادی مارچ” تاحال اسلام آباد میں، بڑے آب وتاب سے جاری ہے۔ اعلان مارچ کے بعد حکومتی ایوانوں میں جو زلزلہ طاری ہوا، وہ بھی عوام نے دیکھا۔ اور آج اسلام آباد کی سرزمین پر جاری مارچ کے شرکاء کی تعداد سے بھی یقینا کوئی غافل نہیں ہوگا۔ موجودہ سیاسی صورت حال یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں سیاست اور سیاسی منظر نامے میں کوئی ذوق اور دل چسپی نہیں تھی۔ آج وہ بھی بہر صورت باخبر رہنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر وقت کان کھڑے کیے نظر آتے ہیں۔ ہر ایک کی زباں پر یہ جملہ جاری ہے کہ ” آج کیا ہوا اور آئندہ کیا ہونے والا ؟؟” حکومت اور اپوزیشن کے مابین جاری اس سیاسی معرکے کا ونر کون ہوگا؟؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر نظریاتی طور پر مولانا فضل الرحمان اس معرکے کے ونر نظر آرہے ہیں۔ طاقت اور غرور کے نشے میں مست موجودہ حکومت کی زبان کو شروع دن سے لگام نہیں۔ ان میں بھی فواد چوہدری، فردوس صاحبہ کے کیا ہی کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں تو یہ کہا گیا کہ مولانا پانچ ہزار کا مجمع بھی نہیں لاسکتے اور کہاں یہ لاکھوں کا مجمع۔ کہنے والے بالآخر کہہ گئے کہ تعداد ان گنت ہے، شمار سے باہر ہے۔
اعلان مارچ کے بعد ہی مارچ کو ناکام کرنے کی کارروائیاں تیز کردی گئی تھیں۔ میڈیا کوریج پر پابندی، مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری اور بوکھلاہٹ میں حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخی جیسے بے وقوفانہ حرکت بھی سامنے آگئی۔ مگر 27 اکتوبر کے طلوع آفتاب نے ان تمام حکومتی ہتھکنڈوں کو زیر و زبر کردیا۔ اور تمام تر چالوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ذہنوں میں سوال گردش کرتے رہے کہ آخر یہ ہے کیا؟ جلسہ ہے،مارچ ہے یا دھرنا۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمان نے شرکا سے خطاب کے دوران اس سوال کا جواب دیتے کہا کہ ” یہ مارچ بھی ہے، دھرنا، بھی ہے اور جلسہ بھی۔
2014 اور 2019 کے دھرنوں کا اگر صاف نظروں سے معاینہ کیا جائے تو بھی فیصلہ مولانا کے حق میں آئے گا۔ کہاں وہ مخلوط ماحول اور موسیقی۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں یہ نماز و ذکر کا نورانی ماحول۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں وہ بدنظمی اور کہاں یہ سلیقہ مندی۔۔۔۔۔۔۔ کہاں وہ امن کے پرخچے اڑانے والے اور کہاں یہ پر امن ماحول بنانے والے۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں وہ وہ اداروں اور صحافیوں کی عزتیں پامال کرنے والے اور کہاں یہ عزتوں کے محافظ، سچ تو یہ ہے کہ مقابلہ تو بنتا ہی نہیں۔
مارچ کی موجودہ صورت حال بزبان حال یہ کہہ رہی ہے کہ ” تم جتنا دباؤ گے ہم اتنا ہی ابھریں گے”۔ جس کا ان ظاہری آنکھوں نے مشاہدہ بھی کیا کہ حکومتی کوشش یہ رہی کہ تمام تر کوریج بند کردی جائے اور مولانا کہیں نظر نہ آئے مگر “جس کو رب بچائے اس کو کون مارے”۔ آج تمام چینلز پر مولانا ہی مولانا نظر آرہے ہیں۔
ان سارے حالات اور واقعات کا نتیجہ جو بھی ہو، حقیقت تو یہ ہے کہ “مولانا تو جیت گئے!!!”
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے میں بس پر ڈرون حملہ، 8 افراد ہلاک، 11 زخمی
03/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، ایک بھارتی شہری ہلاک، 70 زخمی
03/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 288 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C