27/February/2026

میانمار میں فضائی حملہ: بچوں سمیت 17 شہری ہلاک، 15 زخمی

👁️ 126 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
میانمار میں فضائی حملہ: بچوں سمیت 17 شہری ہلاک، 15 زخمی

میانمار میں فضائی حملہ: بچوں سمیت 17 شہری ہلاک، 15 زخمی

نیپیڈاؤ/ساگاینگ/راکھین (ڈیلی اردو) میانمار میں جاری خانہ جنگی کے دوران حالیہ فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

مقامی میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ساگاینگ کے مرکزی علاقے کے ایک گاؤں پر پیر کے روز پیرا موٹرز کے ذریعے بم برسائے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔

 

اگلے روز راکھین ریاست میں ایک گنجان آباد گاؤں کے بازار کو فوجی لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔ رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں کم از کم 17 عام شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوئے۔

 

راکھین میں سرگرم باغی گروہ اراکان آرمی نے الزام عائد کیا کہ فوجی طیارے نے دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ تاہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ فوجی حکومت کے ترجمان نے اس بارے میں ردعمل نہیں دیا۔

 

یونیسف کا ردِعمل

 

یونیسف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان رپورٹس پر ’’انتہائی پریشان‘‘ ہے اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔

 

ادارے کے مطابق حالیہ مہینوں میں بچوں اور شہریوں کو بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں کا سامنا ہے۔ جھڑپوں کے باعث ہزاروں خاندان بے گھر ہو رہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور تحفظ تک رسائی شدید متاثر ہو چکی ہے۔

 

یونیسف نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

 

فضائی طاقت میں اضافہ اور بحران کی شدت

 

میانمار 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والے تصادم میں مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ آبادی والے اس ملک میں فوج مختلف نسلی باغی گروپوں کے خلاف کئی محاذوں پر برسرِپیکار ہے۔

 

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق بحران کے آغاز سے اب تک تقریباً 6,800 عام شہری ہلاک اور 36 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ خوراک اور بنیادی امداد کی قلت سے ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث اسے ایشیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 

گزشتہ برس فوج نے روایتی جنگی طیاروں، ڈرونز اور پیرا موٹرز کے ذریعے فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ پیرا موٹرز ایسے پیراگلائیڈرز ہوتے ہیں جن پر دو سے تین افراد سوار ہو سکتے ہیں اور انہیں فضا سے بم گرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

میانمار کی فوجی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ وہ رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں صرف ان مسلح گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جو ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C