نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں ’خودکش‘ دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 7 افراد ہلاک
👁️ 104 بار دیکھا گیا
نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں ’خودکش‘ دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 7 افراد ہلاک
اسلام آباد (ڈیلی اردو)پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں جمعے کو ہونے والے خودکش حملے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت 7 افراد ہلاک اور 12 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں مولانا حامد الحق کا کمسن بیٹا عبدالحق ثانی اور ایک کمسن بھتیجا بھی شامل ہے جبکہ 9 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملہ مسلمانوں کے لیے مقدس ماہ رمضان کے آغاز سے قبل آج جعمہ 28 فروری کو اس وقت ہوا، جب بڑی تعداد میں نمازی مسجد میں موجود تھے۔ ضلعی پولیس آفیسرعبد الرشید نے کہا کہ مدرسے کے سربراہ مولانا حامد الحق اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق مسجد میں ہونے والا دھماکہ مبینہ طور پر خودکش تھا جس میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامدالحق کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
مولانا حامد الحق جمعیت علمائے اسلام کے مقتول سربراہ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے تھے۔
اُن کے والد ” فادر آف طالبان` اور ’یونیورسٹی آف جہاد کے چانسلر‘ کہلوانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 میں راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں ایک قریبی شاگرد نے خنجر کے وار کرکے ہلاک کیا تھا۔
57 سالہ حامد الحق حقانی دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم تھے۔ وہ 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 2018 میں اپنے والد سمیع الحق کے قتل کے بعد جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ بنے تھے۔
حامد الحق حقانی دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم ہیں۔ وہ 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔
ایک عینی شاہد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اس وقت جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکہ کیا جب وہ ملاقاتی یا شاگرد کی حیثیت سے مولانا حامد الحق سے گلے ملا۔ اس وقت مولانا حامد الحق حقانی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے گھر جا ر ہے تھے اور خود کش بمبار مسجد کے اس کونے میں کھڑا تھا جہاں سے مولانا نکل کر گھر کی طرف جانے والے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے مسجد کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا جب کہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
نوشہرہ کے ایک سینئر پولیس افسر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ دارالعلوم حقانیہ میں 23 پولیس اہلکار سیکیورٹی پر تعینات تھے جن میں سے چھ اہلکار مولانا حامد الحق کی سیکیورٹی کے لیے مختص تھے۔
پولیس افسر کے مطابق مسجد کےاحاطے میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے کے داخلی راستے پر بھی سیکیورٹی موجود تھی۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) نوشہرہ عبدالرشید کے مطابق اکوڑہ خٹک مسجد میں دھماکے کے بعد ریسکیو اور سیکیورٹی ٹیمیں جائے حادثہ پہنچ گئی ہیں جب کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
مولانا حامد الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو فنڈز بھی جاری کیے تھے۔
سال 2019 میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس مدرسے کو تین کروڑ روپے کی گرانٹ دی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے سابق دورِ حکومت میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اس مدرسے کے لیے بھاری گرانٹ منظور کی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی تھی۔
افغان طالبان کے اہم عہدیداروں سمیت متعدد اہم مذہبی اور سیاسی رہنما دارلعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں، اس لیے اس مدرسے کو طالبان کا گڑھ ”یونیورسٹی آف جہاد‘‘ اورمولانا سمیع الحق کو ‘فادر آف دی طالبان‘ بھی کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی شدت پسند تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
دریں اثنا پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت دینے کی ہدایت کی ہے۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا تاریخی پس منظر
سن 1947 میں قیامِ پاکستان کے فوری بعد جمعیت العلماء ہند اور دارالعلوم دیوبند سے منسلک مکاتبِ فکر کے علما میں شامل مولانا عبدالحق نے 23 ستمبر 1947 کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی بنیاد رکھی۔
ابتدائی برسوں میں برِصغیر پاک و ہند کے دیگر مدرسوں کی طرح دارالعلوم حقانیہ بھی ایک عام سی مدرسہ تھا تاہم بعدازاں خیبرپختونخوا او ربلوچستان سمیت ملک بھر سے طلبہ یہاں آنے لگے۔ خاص طور پر افغانستان سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے دارالعلوم حقانیہ میں داخلہ لیا۔
افغانستان میں 1979 میں سوویت افواج کی آمد کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے کئی افغان مہاجرین نے اس درس گاہ میں داخلہ لیا۔
افغان جنگ شروع ہونے سے قبل افغانستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم حقانیہ کے طلبہ میں مولوی جلال الدین زدران سر فہرست تھے جو بعد میں نہ صرف عالمی سطح پر مولوی جلال الدین حقانی کے نام سے جانے پہچانے لگے بلکہ انہوں نے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف حقانی نیٹ ورک قائم کر دیا۔
حقانی نیٹ ورک پر امریکہ اور اتحادی افواج پر حملوں کے الزامات لگتے رہے۔ جب کہ یہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں بھی متحرک رہا۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ نے جہاں ایک جانب مذہبی انتہا پسندی کے رجحان کو فروغ دیا تو وہیں مختلف اسلامی ممالک کے طلبہ بھی دینی تعلیم کے حصول میں دلچسپی لینے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد مختلف وسط ایشیائی ممالک سے بھی کئی طلبہ نے اس مدرسے میں داخلہ لیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ طالبان کے لیے ایک طرح سے ‘یونیورسٹی’ ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ پاکستان اور افغانستان میں مذہبی اور سیاسی تحریکوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ مدرسہ مولانا سمیع الحق کی وجہ سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں مولانا سمیع الحق کو ‘بابائے طالبان’ بھی کہا جاتا رہا ہے۔
سابق افغان رہنما پروفیسر برہان الدین ربانی، مولای یونس خالص، مولوی جمیل الرحمان اور مولانا محمد نبی محمدی اور دیگر بھی اسی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 119 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8829 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4562 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3271 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2451 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2094 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1898 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C