28/February/2025

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور یوکرینی صدر کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ، پریس کانفرنس منسوخ

👁️ 126 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور یوکرینی صدر کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ، پریس کانفرنس منسوخ

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور یوکرینی صدر کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ، پریس کانفرنس منسوخ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں اس وقت بدمزگی ہو گئی جب یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب صدر سے معدنیات سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے دوران تکرار ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور دونوں صدور کی طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

جمعے کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں کے سامنے ہونے والی بات چیت میں اس وقت ماحول گرم ہوا جب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ’معاہدہ کریں ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘

جس کے جواب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہونا چاہیے – لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کئیو کو روس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے رعایتیں دینا ہوں گی۔

ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔

اس ملاقات کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟ آپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مر رہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ ’امریکہ‘ کی توہین کر رہے ہیں۔

اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کے الفاظ انتہائی غیر مناسب ہیں۔‘

اس پر زیلنسکی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی یوکرین کا دورہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینا امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے ، چاہتے ہیں امریکہ یوکرین کی مدد بند نہ کرے۔

صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب وہ امن کے لیے تیار ہوں تو واپس آ سکتے ہیں‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ صدر زیلنسکی کے ساتھ ان کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات بامقصد رہی تاہم ان کے بقول “وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔”

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ زیلنسکی محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ کی شمولیت ان کو مذاکرات میں بڑا فائدہ پہنچاتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فائدہ نہیں، بلکہ امن چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اس ملاقات کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ “صدر زیلنسکی نے امریکہ کے قابل احترام اوول آفس کا احترام نہیں کیا۔ جب وہ امن کے لیے تیار ہوں تو واپس آ سکتے ہیں‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C