پاکستان کا افغان طالبان پر ”ٹی ٹی پی” کو کنٹرول کرنے کا الزام
👁️ 98 بار دیکھا گیا
پاکستان کا افغان طالبان پر ”ٹی ٹی پی” کو کنٹرول کرنے کا الزام
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/نیوز ایجنسیاں) افغانستان کیلئے پاکستان کے اہم سفارتی نمائندے کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی رشتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی سفارتی نمائندے آصف درانی کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) در اصل کابل کے طالبان حکمرانوں کے زیر اثر ہے اور اسلام آباد کے لیے یہ بات ناپسندیدہ ہونے کے ساتھ ہی کافی پریشان کن بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ”ہمارے لیے اس حقیقت کا ادراک ناقابل فہم ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگ، جو افغانستان میں رہتے ہیں، ان کے (افغان طالبان) کے کنٹرول میں ہیں۔ انہیں پاکستان کی سرحد عبور کرنے، تخریب کاری کی سرگرمیاں کرنے، قتل عام کرنے اور پھر واپس جانے کی بھی اجازت ہے۔”
پاکستان کے خصوصی نمائندے آصف درانی نے پاکستان کے ایک میڈیا ادارے ‘ایمبیسیڈرز لاؤنج’ کے ساتھ اس بارے میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ ”یہ وہ چیز ہے جو ہمارے لیے پریشان کن ہے۔”
پاکستانی حکام کئی بار اشارتاً یا پھر نجی گفتگو کے دوران افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے بارے میں باتیں کرتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب کسی سینیئر اہلکار نے کھل کر اس بارے میں اس طرح کی بات کی ہو۔
یہ بیان پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کا بھی عکاس ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹی ٹی پی کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا ہے، کیونکہ پاکستان اس دہشت گرد تنظیم کے لیے کابل کی حمایت سے کافی پریشان ہے۔
پاکستانی سفارت کار نے مزید کیا کہا؟
آصف درانی نے بات چیت کے دوران کہا، ”ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ ٹی ٹی پی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان کی طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرے اور انہیں غیر مسلح کرے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”افغان طالبان اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے”، کیونکہ یہ دو طرفہ تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا، ”یہ کہا جاتا ہے کہ وہ (افغان طالبان اور ٹی ٹی پی) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔” انہوں نے واضح طور اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ پاکستان کو پہلے ان دونوں کے تعلقات کے بارے میں غلط فہمی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عروج اور افغانستان میں امریکی فوجی مہم کے دوران اکثر افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان فرق کو واضح کرتے رہے تھے۔ اسلام آباد نے افغان طالبان کو غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک قومی تحریک کے طور پر دیکھا، جبکہ ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
لیکن دو برس قبل افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کی اس سوچ اور بیانیے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی توسیع کے طور پر دیکھتا ہے۔ البتہ بعض حلقوں کو اس بات کا بھی شک ہے کہ شاید افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
افغانستان کا امن پاکستان کے لیے ‘ڈراؤنا خواب’
درانی کے مطابق ٹی ٹی پی کے تقریباً 6000 کے قریب دہشت گرد افغانستان کی سرزمین سے کام کر رہے ہیں۔ تاہم اگر ان کے خاندانوں کو بھی شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ساٹھ سے پینسٹھ ہزار تک پہنچتی ہے۔
درانی نے کہا، ”افغانستان میں عبوری حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملک کے اندر امن قائم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں جرائم کم سے کم ہوگئے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معیشت کو بہتر کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ حالات میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر افیون کی کاشت 95 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کا امن حقیقت میں پاکستان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے، کیونکہ جو لوگ پناہ گاہیں حاصل کر رہے ہیں وہ افغانستان کے اندر ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کابل کا دو بار دورہ کیا ہے اور افغان طالبان کہتے رہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ تاہم درانی نے کہا کہ ”مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ عملی اقدام بھی کرتے ہیں۔ اہم یہی ہے۔”
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان طالبان کے امیر نے پاکستان کے خلاف حملوں سے منع کرتے ہوئے ایک حکم نامہ بھی جاری کیا۔ لیکن اس حکم کے باوجود بھی ٹی ٹی پی کے حملے جاری رہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کے (طالبان) وزراء نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے ہیں۔ تو کیا ہم یہ مانیں کہ ٹی ٹی پی ان کے احکامات کی نافرمانی کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ بیعت جس کا ٹی ٹی پی نے طالبان کے سربراہ سے اعلان کیا ہے، باطل سمجھی جانی چاہیے۔ اگر یہ بیعت کالعدم قرار سمجھی جائے، تب تو ٹی ٹی پی کو سزا دی جانی چاہیے۔”
درانی نے کہا، ”اگر آپ اسلام یا روایت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، تو دونوں صورتوں میں بھی یہ سزا کا مسئلہ ہے کیونکہ وہ (ٹی ٹی پی) افغانستان کی سرزمین کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 135 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 175 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 169 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 177 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4566 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2097 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C