22/February/2026

پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 23 سے زائد افراد ہلاک، طالبان کا دعویٰ

👁️ 224 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 23 سے زائد افراد ہلاک، طالبان کا دعویٰ

پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 23 سے زائد افراد ہلاک، طالبان کا دعویٰ

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی)  افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 23 سے زائد افراد  ہلاک ہوئے۔

 

متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے کہا، ’’سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی اور میرا شوہر چلا گیا، اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں۔‘‘ عینی شاہدین کے مطابق رات گئے ہونے والے فضائی حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

 

بی بی سی دری کے مطابق، ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہوئے۔ 

 

ان کے مطابق اب تک ملبے سے صرف چار افراد کو نکالا جا سکا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ بہسود کے علاوہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

پکتیکا میں مدرسے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

 

صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی دری کو بتایا کہ ضلع برمل میں سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ایک فضائی حملے میں مدرسے کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تاہم رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز اور تصاویر میں عمارت کے ایک حصے کو تباہ اور کتابوں کو نقصان پہنچا دکھایا گیا ہے۔

 

طالبان حکومت کا الزام اور جواب کی دھمکی

 

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر سرحدی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہونے والی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’پاکستانی جرنیل اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کے لیے ایسے مجرمانہ اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

 

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے ان حملوں کو افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 

پاکستان کا مؤقف

 

دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں سرحدی علاقے میں تحریک طالبان پاکستان اور ان کے اتحادی گروہوں، جن میں دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ شامل ہیں، کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

 

پاکستانی حکومت کے مطابق یہ کارروائی حالیہ خودکش حملوں کے تناظر میں کی گئی، جن کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور دولتِ اسلامیہ خراسان نے قبول کی ہے۔ 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C