پاکستانی نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل کیوں ہو رہے ہیں؟
👁️ 99 بار دیکھا گیا
پاکستانی نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل کیوں ہو رہے ہیں؟
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے پرتشدد حملوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس کا سبب نوجوانوں میں جذباتی پختگی کی کمی ہے جس کا انتہاپسند گروپ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پاکستانی صوبہ پنجاب کے قصبے جڑانوالہ میں گزشتہ ماہ مسیحی اقلیتی باشندوں پر مشتعل مسلمانوں کے ہجوم کے حملوں نے بہت سی زندگیاں تباہ کر دیں اور اس واقعے سے توجہ ایک بار پھر پاکستان میں توہین مذہب سے متعلق متنازعہ قوانین کی جانب چلی گئی۔
یہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے کچھ پھٹے ہوئے صفحات ایک مسیحی بستی کے قریب سے ملے۔ ان صفحات پر مبینہ طور پرکسی نے توہین آمیز جملے لکھ دیے تھے۔
مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات اکثر کسی بھی ہجوم کو تشدد پر اکسانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
تاہم متاثرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ ان حالیہ حملوں میں بہت بڑی تعداد میں لڑکوں اور نوجوان مردوں کی شرکت حیران کن اور غیر معمولی تھی۔
جڑانوالہ کے عیسیٰ نگری نامی علاقے میں رہنے والے 44 سالہ مسیحی شہری آصف محمود بتاتے ہیں، ”چودہ برس تک کی عمر کے لڑکے بھی مشتعل ہجوم میں شامل تھے۔ وہ گرجا گھروں پر حملے کر رہے تھے اور انہیں جلا رہے تھے۔ میرا اپنا گھر بھی لوٹ لیا گیا۔ حملہ آور دو بکریاں، ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور کچھ زیورات بھی لوٹ کر لے گئے۔‘‘
آصف محمود نے بتایا کہ ان حملہ آوروں میں 50 فیصد سے زیادہ افراد نوجوان اور نو عمر لڑکے تھے۔
ایک مقامی پولیس اہلکار نے بھی مشتعل ہجوم میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کی موجودگی کا اعتراف کیا۔ اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ”بالکل، یہ سچ ہے کہ بہت سے لڑکے اور نوجوانوں نے 16اگست کو مسیحیوں کی املاک اور گھروں کی توڑ پھوڑ میں حصہ لیا تھا۔‘‘
آصف محمود کے خیال میں نفرت اتنی زیادہ تھی کہ جنونی ہجوم نے ایسے مقامی مسیحی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جہاں توہین مذہب کا کوئی مبینہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حملہ آوروں کے ہجوم کی طرف سے لگائے گئے نفرت انگیز نعروں کو کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
ہمدردی اور احساس ندامت کی کمی
کچھ حملوں کے دوران نوجوان حملہ آور، جب وہ اقلیتوں کی املاک لوٹ رہے تھے، تو ساتھ ہی قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ دماغی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں میں ملوث افراد کا اندازہ ان کی اس حالت سے لگایا جاتا ہے جسے طبی اصطلاح میں ‘کنڈکٹ ڈس آرڈر‘ کہا جاتا ہے۔
اسلام آباد کی ایک ماہر نفسیات ضوفشاں قریشی کا کہنا ہے کہ اس کی پہچان یہ ہے کہ متاثرہ شخص میں ہمدردی اور احساس ندامت کی کمی ہوتی ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ایسے واقعات میں سرکاری ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے، انسانوں یا جانوروں کو نقصان پہنچانے اور دوسروں کی املاک اور سامان کو تباہ کرنے کے نتیجے میں ہونے والی تکلیف سے ایسے اعمال کے مرتکب افراد کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔‘‘
اسلام آباد کے ایک ماہر نفسیات اور سماجی کارکن بشیر حسین شاہ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ دسمبر 2021 میں پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں بھی سری لنکا کے ایک شہری کو مبینہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کرنے کے مجرمانہ واقعے میں بھی بہت سے نوجوانوں نے حصہ لیا تھا۔
بشیر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے اقلیتوں پر ہونے والے دیگر حملوں میں بھی حصہ لیا ہے اور حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ان کی تعداد میں ڈرامائی طورپر اضافہ ہوا ہے۔
نفسیاتی عوامل
ضوفشاں قریشی کہتی ہیں کہ کئی بنیادی نفسیاتی عوامل ہیں، جو نوجوانوں کو کسی بھی مشتعل ہجوم کا حصہ بننے پر مائل کرتے ہیں۔ ادراک کی سطح پر اسے ‘سیاہ اور سفید سوچ‘ کہا جاتا ہے، جوابتدائی نوعمری میں نمایاں ہوتی ہے۔
سائیکو تھیراپسٹ قریشی نے مزید بتایا کہ نوجوان نفسیاتی طورپر کافی پختہ نہیں ہوتے اور زندگی کا اتنا تجربہ نہیں رکھتے کہ وہ صحیح اور غلط کے مابین فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا، ”اس عمر کے افراد کو کئی مختلف بنیادوں پر قانون ہاتھ میں لینے پر آمادہ کر لینا قدرے آسان ہوتا ہے۔‘‘
شدت پسند مذہبی تنظیموں کا کردار کیا؟
بہت سی مذہبی جماعتوں مثلاً تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ماہر نفسیات اور سماجی کارکن بشیر حسین شاہ کا کہنا تھا، ”ٹی ایل پی ہفتہ وار اجتماعات، ماہانہ مذہبی تقریبات اور مختلف مذہبی شخصیات کی سالگرہوں پر تقریبات کا انعقاد کرتی ہے، جو نوجوانوں اور نوعمر افراد کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ وہ ان پلیٹ فارمز کو نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے کے لیے اور اقلیتوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔‘‘
انتہا پسند تنظیموں کی سوشل میڈیا پر بھی بھرپور موجودگی
بشیر حسین شاہ کہتے ہیں کہ لاکھوں لوگوں نے ٹی ایل پی کے مرحوم سربراہ خادم رضوی اور موجودہ سربراہ سعد رضوی کی شعلہ بیانی والی تقریریں سنی ہیں۔ ”وہ ایکس اور فیس بک پر جو مواد پوسٹ کرتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے کے لیے بھی ان پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔ مذہبی جماعتیں جانتی ہیں کہ نوجوانوں کے پاس لڑنے کی طاقت ہوتی ہے۔ ہم نے خود کئی بار اس امر کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ اس لیے ایسے گروپ نوجوانوں کی اس طاقت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے لیے بھی استعمال میں لاتے ہیں۔‘‘
پاکستان کی ایک غیر سرکاری اور غیر منافع بخش تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سابق سربراہ زہرہ یوسف کا خیال ہے کہ یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے اور اس کے ملک پر اثرات و نتائج اتنے زیادہ ہو سکتے ہیں کہ ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نوجوان ذہنوں کو مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم رواداری اور عدم برداشت کی تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں ہجوم اکٹھا کر لینا بہت آسان ہے۔ اس کے لیے تو کسی مسجد سے صرف ایک اعلان کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 171 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8831 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4563 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3275 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2453 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2096 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1900 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C