06/August/2021

چاڈ: بوکو حرام کے حملے میں 26 سے زائد فوجی ہلاک

👁️ 22 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چاڈ: بوکو حرام کے حملے میں 26 سے زائد فوجی ہلاک

چاڈ: بوکو حرام کے حملے میں 26 سے زائد فوجی ہلاک

نجامینا (ڈیلی اردوروئٹرز/اے ایف پی) جہادیوں کے مبینہ حملے میں چاڈ کے شورش زدہ لیک چاڈ علاقے میں گشت پر مامور کم از کم 26 فوجی مارے گئے۔ بوکو حرام اور مغربی افریقی صوبے کی اسلامک اسٹیٹ نامی انتہا پسند گروپ اس علاقے میں سرگرم ہیں۔

چاڈ کی فوج کے ترجمان جنرل اعظم برمانڈووا آگونا نے جمعرات کے روز بتایا کہ انتہاپسندوں کے حملے میں چاڈ آرمی کے چھبیس جوان ہلاک ہو گئے، چودہ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں آٹھ کی حالت نازک ہے جبکہ فوجی کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد بھی مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی مہم ابھی جاری ہے۔

فوجیوں پر یہ حملہ چوکو ٹیلیا کے لیک چاڈ جزیرے پر ہوا۔

حملے کے پیچھے کس گروپ کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟

فوج نے اس حملے کے لیے بنیاد پرست اسلام پسند جماعت بوکو حرام کو مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اس خطے میں اس کا ایک حریف گروپ اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پرووینس (آئی ایس ڈبلیو اے پی) بھی کافی سرگرم ہے۔

لیک چاڈ کی سرحدیں چاڈ، نائجیریا اور کیمرون کے ساتھ ملتی ہیں۔

بوکو حرام نے انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا آغاز سن 2009 میں شمال مشرقی نائجیریا سے کیا تھا اور بڑے پیمانے پر طالبات کے اغوا کی وجہ سے سرخیوں میں آیا تھا۔ اس گروپ نے بعد میں اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پڑوسی ملکوں تک وسیع کر دیا۔

آئی ایس ڈبلیو اے پی خطے میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے بوکوحرام سے لڑتی رہی ہے۔ بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیخو کی مئی میں موت کے بعد ایک ویڈیو جاری کیا گیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ بوکوحرام کے ممبران اپنی وفاداری تبدیل کرکے آئی ایس ڈبلیو اے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بوکوحرام کی انتہاپسندی کے آغاز کے بعد سے گذشتہ بارہ برسو ں کے دوران تقریباً تیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس لڑائی کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔

چاڈ کے سابق صدر ادریس دیبی اٹنونے اپریل 2020 میں تقریباً ایک سو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بوکو حرام کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس فوجی کارروائی کے دوران بوکو حرام کے لگ بھگ ایک ہزار جنگجو مارے گئے تھے۔

اس برس اپریل میں حکومت مخالف جنگجووں کے ساتھ لڑتے ہوئے ادریس دیبی کی موت ہو گئی، جس کے بعد ان کے بیٹے محمد دیبی ملک کے عبوری صدر بن گئے۔

محمد دیبی نے جنگجووں کے حملے میں فوجیوں کی موت کے حالیہ واقعے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C