07/September/2025

چین سب سے بڑا چیلنج، پاکستان پراکسی وار میں سرگرم، بھارتی جنرل انیل چوہان

👁️ 295 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چین سب سے بڑا چیلنج، پاکستان پراکسی وار میں سرگرم، بھارتی جنرل انیل چوہان

چین سب سے بڑا چیلنج، پاکستان پراکسی وار میں سرگرم، بھارتی جنرل انیل چوہان

گورکھپور/نئی دہلی (ڈیلی اردو) انڈیا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع انڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور مستقبل میں بھی یہ برقرار رہے گا، جب کہ پاکستان کے ساتھ جاری ’پراکسی وار‘ دوسرا بڑا چیلنج ہے۔

 

گورکھپور میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی انڈیا کو "ہزار زخم دے کر کمزور کرنا" ہے۔ ان کے مطابق: “ہمارے دونوں مخالفین (چین اور پاکستان) جوہری طاقتیں ہیں، اور یہ ہمیشہ ایک چیلنج رہے گا کہ ہم ان کے خلاف کس نوعیت کے فوجی آپریشن کریں۔”

 

آپریشن ’سندور‘کا ذکر

 

جنرل چوہان نے رواں برس مئی میں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کا بھی حوالہ دیا۔

 

ان کے بقول اس آپریشن کا مقصد صرف دہشت گرد حملے کا جواب دینا نہیں بلکہ یہ دکھانا تھا کہ انڈیا کی برداشت کی ’ریڈ لائن‘ کہاں تک ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ملٹی ڈومین آپریشن تھا جس میں سائبر وارفیئر اور فوج کی تینوں شاخوں کے درمیان مربوط کارروائی شامل تھی۔

 

واضح رہے کہ انڈیا نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کیا۔ آپریشن سندور کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی، تاہم فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

 

چین اور پاکستان کا کردار

 

انڈین فوج کے ڈپٹی چیف راہُل سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران چین نے اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے انڈیا کی فوجی تعیناتی پر نظر رکھی اور پاکستان کو ریئل ٹائم معلومات فراہم کیں۔

 

انہوں نے کہا کہ چین نے اس تنازع کو ’’لائیو لیب‘‘ کے طور پر استعمال کیا تاکہ پاکستان کو دیے گئے ہتھیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔

 

چین کے ساتھ تعلقات

 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کانفرنس کے دوران انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار دیکھے گئے۔ اس اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

طیاروں کے معاملے پر وضاحت

 

بلومبرگ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل چوہان نے پاکستان کی جانب سے انڈین لڑاکا طیارے مار گرانے کے دعوے کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے طیارے نشانہ بنے بلکہ یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا۔

 

بین الاقوامی ردعمل

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایسا لگتا ہے ہم نے انڈیا اور روس کو گہرے اور تاریک چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔" ان کے اس بیان پر انڈین وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

 

دوسری جانب سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایک بار پھر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے نریندر مودی کے ساتھ ذاتی تعلقات تو اچھے تھے لیکن اب وہ ختم ہو چکے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C