15/June/2026

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

👁️ 84 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل

تہران (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے ایف پی/اے پی) ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حالات میں مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

 

قالیباف نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا،’’ضاحیہ پر جارحیت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی خواہش نہیں رکھتا یا پھر اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا،’’اگر آپ کے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کی نہ خواہش ہے اور نہ صلاحیت، تو پھر اس راستے پر مزید آگے بڑھنے کی بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

 

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ، پاکستان سمیت متعدد ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوشش میں ہیں۔  چند گھنٹے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے مبینہ اہداف پر فضائی حملے کیے تھے۔

 

اسرائیلی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے مبینہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

 

ایران اور امریکہ کے درمیان زیر بحث اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بارے میں گزشتہ دو دنوں سے مثبت اشارے سامنے آ رہے تھے اور پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدہ 24 گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے۔

 

تاہم قالیباف کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C