ڈیڑھ فٹیا پر اشرار ڈاکٹر اور لاہور کا امن (شیخ نعیم کمال)
👁️ 122 بار دیکھا گیا
ڈیڑھ فٹیا پر اشرار ڈاکٹر اور لاہور کا امن (شیخ نعیم کمال)
قارئین گرامی قدر چند روز پیش آئے وکلا اور ڈاکٹرز کی لڑائی اور پیش آنے والے اذیت ناک واقع میں اصل قصور وار کون ہے کے نام سے ایک کالم مورخہ 11 دسمبر کو تحریر کر چکا ہوں۔ ابھی اس سانحہ کا غم خلط نہیں ہوا ہے کہ ایک پر اشرار ڈاکٹر عرفان نامی شخص واقع کے بعد بھی مختلف وڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے مزید نتازع کو دعوت دیتا نظر آرہا ہے، دوسری طرف الیکٹرانکس میڈیا جان بوجھ کر اس پر اشرار ڈاکٹر کے کردار کو چھپا رہا ہے ۔ مگر کالم ہذا میں دیگر کرداروں سے ہٹ کر صرف مذکور االذکر پر اشرار ڈیڑھ فٹے ڈاکٹر کے کردار پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔
جناب عالی! جیسا کہ سب کو علم ہے کہ 11 دسمبر کے تنازع سے قبل ڈاکٹرز نے کچھ وکلا کو وحشیانہ انداز میں مار پیٹ کر بعد میں میڈیا پر آکر وکلا سے معافی مانگ لی تھی اور معاملات ابھی پوری طرح سمٹے نہ تھے کہ مذکور ڈاکٹر عرفان نے وکلا کی تزہیق کرتے ہوئے ایک عدد وڈیو اپ لوڈ کی جس کے نتائج ہولناکی کی شکل میں برآمد ہوئے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں نوجوانوں کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں نوجوان تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں وہیں نوجوانوں میں جوش و جذبات کی روانی بھی ہوتی ہے جو کبھی کبھی عدم برداشت کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ ایسا ہی ہوا کہ مذکور ڈاکٹر عرفان نے نوجوان وکلا کو دعوت شر دی جو بد قسمتی سے انہوں نے قبول کر لی۔ بعد میں ینگ وکلا کے لیڈر صاحبان نے تمام وکلا کو اپنی سپرویژن میں پر امن احتجاج کرنے کو کہا، مگر افسوس کہ وکلا کے خواب خیال میں بھی نہ تھا کہ مذکور شیطان ڈاکٹر نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت وکلا کے پی آئی سی تک پہنچنے سے پہلےہسپتال کی چھت پر بھاری تعداد میں اینٹیں، پتھر، کانچ کی بوتلیں اور کیل دار ڈنڈے پہنچائے ہوئے تھے اور اپنی فورس کو تیار کر رکھا تھا۔ پولیس خاموشی سے پاس کھڑی تھی پرامن احتجاج جاری تھا، جونہی ایمبولینس آتی پرامن وکلا باہم راستہ فراہم کرتے، اس وجہ سے ڈاکٹر عرفان اپنے مذموم مقصد میں ناکام ہوتا ہوا نظر آیا تو اس نے اپنی پرائیویٹ فورس کو حکم دیا کہ چھت پر سے وکلا پر پتھروں، اینٹوں اور بوتلوں کی بارش کرو تا کہ جو منصوبہ بنایا ہے اس پر عملدرآمد ہو سکے۔ بس پھر شر کو کامیابی ملی جونہی وکلا نے اندر جانے کی کوشش کی، ابھی وکلا ہسپتال کے مین گیٹ سے داخل ہی ہوئے تھے کہ پولیس نے، ہسپتال کے کوریڈور کے اندر آنسو گیس پھینکنا شروع کر دی اسطرح ایک نئی جنگ پولیس اور وکلا کے درمیان چھڑ گئی۔ جس میں ایک بھی ڈاکٹر کو خراش تک نہ آئی کیونکہ نیچے سے پولیس نہتے وکلا پر حملہ آور تھی اور چھت پر سے پلیڈ ڈاکٹر کی فوج محو تیر انداز تھی، نتیجے کے طور پر درجنوں وکلا شدید زخمی کئے گئے، ایڈووکیٹ بیرسٹر سعید ناگرہ تا حال آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، جبکہ لاہور ہائی کورٹ لاہور نے تمام گرفتار اور زخمی وکلا کا میڈیکل کروانے کا حکم دیدیا ہے اور انکو ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
مبینہ پلان کے تحت پولیس اور وکلا کی ہاتھا پائی میں موقع پا کر مذکور ڈاکٹر عرفان نے اپنے پیرا میڈیکل عملے سے ملی بھگت کر کے کروڑوں روپے کی نئی مشینری ایمرجینسی اور متعلقہ آپریشن تھیٹر سے غائب کروا دی اور کروڑوں روپے مالیت کی دوائیں بھی غائب کروا دیں جسکا ثبوت یہ ہے کہ کوئی ایک بھی فوٹیج اس بابت سامنے نہ لائی گئی ہے۔ ایک ویب چینل ڈیلی پی پی این نیوز نے اس پر رپورٹنگ بھی کی ہے کہ یہ کرپٹ ڈاکٹر اپنے پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ ملکر ہسپتال کے باہر موجود میڈیکل سٹورز کو چوری شدہ سرکاری دوائیاں اور آلات فروخت کرتے ہیں پھر عوام کو با امر مجبوری بغرض شفا وہاں سے مہنگے داموں خرید نا پڑتا ہے۔ وکلا کی طرف سے عام اعلان ہے کہ اگر کسی ایک وکیل نے بھی کسی مریض کا ماسک اتارا ہو اسکو پھانسی دے دو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ کسی ایک وکیل نے بھی کوئی قیمتی دوائی یا آلات کو خلط ملط کیا ہو وہ اس سے پورا کیا جائے۔ مگر کالم ہذا کے توسط سے میں ملت مس ہوں جناب چیئرمین نیب اور دیگر مقتدر ایجنسیوں سے کہ فوری واقع کا نوٹس لیں اور اسکے پیچھے کیا محرکات ہیں کہ یہ پلانٹ شدہ واقع کیوں کروایا گیا اور اسکے پس پردہ بہت بڑی کرپشن ہوئی ہے اگر نوٹس نہ لیا گیا تو یہی سمجھا جائے کا اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ جس میں یقیناً حکومتی مشینری اور با اثر افراد کا بھی ہاتھ ہے۔
جناب عالی! دوسری طرف عزت مآب لاہور ہائی کورٹ لاہور نے حکم دیا کہ وکلا پھولوں کے گلدستے لیکر پی آئی سی (ہسپتال) جائیں اور ڈاکٹرز کو پیش کریں تا کہ معاملہ صلح جوئی اور امن کی طرف بڑھے، جس شام کو وکلا کے لیڈران گلدستے لیکر پہنچے، اسی رات کو سوشل میڈیا پر ڈاکٹر ارفان ام الاشرار (عرفان) کی وڈیوز نموندار ہو جاتی ہیں جس میں وہ دوبارہ وکلا کی تزہیق کر رہا ہے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ اس نطفہ ناتحقیق سے کوئی بھی پوچھنے والا نہیں؟ جس اکیلے کی وجہ سے لاہور کا امن تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ کسی میڈیا چینل کی جرات نہیں کہ ڈاکٹرز کی طرف سے پہل کی گئی حملے کی فوٹیج دکھائے، کسی مقتدر ادارے کو توفیق نہیں کہ اسکی قبیح حرکتوں کا نوٹس لے۔ یہ ایسے واقعات اور پبلک سرونٹس ہوتے ہوئے بھی غیر قانونی طور پر ہڑتالیں کر کر کے کروڑوں روپے کی دوائیاں اور آلات غیر قانونی طور پر فروخت کر جاتے ہیںجن پر صرف اور صرف عوام کا حق ہے اور یہ ان ڈاکٹروں کے باپ کی کمائی نہیں ہوتی بلکہ ہمارا ادا شدہ ٹیکس ہوتا ہے۔ یہ قصاب ڈاکٹرز کس قانون کے تحت سرکاری نوکری کے دوران پرائیویٹ کلینکس بنا کر قوم سے رقوم لوٹتے ہیں اور ہمارے ٹیکس سے خرید کنندہ مہنگے آلات اور دوائیاں سر عام فروخت کر رہے ہیں؟
اختصار کے پیش نظر میں متلمس ہوں متلعلقہ اداروں سے اس پر اشرار و پراسرار ڈاکٹر کی حرکات و سکنات کا فوری نوٹس لیا جائے اور چیئرمین نیب اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کروائیں کہ کون سی کروڑوں روپے کی مشینری اور دوائیاں وکلا جاتے ہوئے اپنے ہاتھ میں اٹھا کر لے گئے ہیں اور اسکی متعلقہ فوٹیجز کہاں ہیں؟
جناب عالی! مذکور الذکر ام الاشرار ڈاکٹر ارفان یا تو ایک نفسیاتی مریض ہے ،یا پھر کسی سیاسی جماعت کے ہاتھوں کھلواڑ بن رہا ہے اور خوب مال دنیا اکٹھا کرنے میں مصروف ہے اور اس نطفہ نا تحقیق نے تن تنہا کسی بڑے اشارے پر لاہور کا امن تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر پر اشرار کی دیدہ دلیری کے پیچھے یقیناً کوئی خفیہ ہاتھ ہے جس کا سامنے لایا جانا ضروری ہے اور اس حمام میں عوام کا خطیر سرمایہ سمیٹنے میں کافی لوگ ننگے نکلیں گے، اگر تحقیقات ہوئیں تو! راقم، حکومت وقت کو دعوت دیتا ہے کہ عقل کے ناخن لیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے لائیں اور اپنے ہمدرد و مخالف کی پہچان کریں کھوکھلے نعروں کو چھوڑ کر کسی عملی حکمت کا مظاہرہ کریں۔ ورنہ وکلا بذریعہ عدالت و قانون ان تمام نکتہ ہائے کو اٹھائیں گے اور جب تک اصل کردار ننگے نہیں ہو جاتے ایسے شریر عناصر کا پیچھا پر امن اور قانونی طریقے سے نہیں چھوڑا جائے گا۔
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 115 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 150 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8830 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4563 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3274 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2452 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2094 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1898 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C