09/October/2026

کرائے کی ریاست، خلیجی مہم جوئی اور داخلی تقسیم کا جال: عسکری بالادستی اور عوامی استحصال

👁️ 118 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرائے کی ریاست، خلیجی مہم جوئی اور داخلی تقسیم کا جال: عسکری بالادستی اور عوامی استحصال

کرائے کی ریاست، خلیجی مہم جوئی اور داخلی تقسیم کا جال: عسکری بالادستی اور عوامی استحصال

از : محمد عامر حسینی 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے پاکستان کے حکمرانی کے ڈھانچے میں چھپے اس سنگین تضاد کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے جسے دہائیوں سے قومی مفاد اور سلامتی کے پردوں کے پیچھے چھپایا جاتا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی فوج نے سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی خطے میں اپنی نئی عسکری تعیناتی کے عمل کو پارلیمان، کابینہ یا عوامی نمائندوں کی باضابطہ منظوری کے بغیر ہی حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین طے پانے والے نام نہاد ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کو عملی جامہ پہنانے کی کڑی ہے، جس کے تحت پاکستانی فوجیوں کو خلیجی بادشاہتوں کے دفاع، بالخصوص یمن کی مزاحمتی تحریک کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے ڈھال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ریاستی اداروں نے اس فیصلے کو روایتی طور پر ”آپریشنل رازداری“ اور قومی سلامتی کی مجبوری قرار دے کر عوام سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن تاریخ کا تقابل بتاتا ہے کہ یہ پیش رفت 2015 کے اس متفقہ پارلیمانی فیصلے کے بالکل الٹ ہے جس میں پاکستان کے منتخب ایوان نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں یمن کے خلاف چھیڑی جانے والی سعودی مہم جوئی کا ایندھن بننے سے انکار کر دیا تھا۔ نو برس بعد اب صورتحال یہ ہے کہ پارلیمان کو محض بے خبر ہی نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ریاستی پالیسی سازی کے عمل سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے، جہاں اربوں ڈالر کے سیکیورٹی سودے بند کمروں میں طے پاتے ہیں اور عوام کے منتخب نمائندے محض بے بس تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
سطحی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ سویلین بالادستی کی کمزوری یا آئینی حدود کی پامالی کا ایک عمومی واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس کرائے کے سیکیورٹی ماڈل کا تسلسل ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ دہائیوں سے کھڑا ہے۔ پسماندہ اور نوآبادیاتی دور کی باقیات پر قائم ریاستی مشینری میں فوج اور بیوروکریسی ہمیشہ سے سماج کے دیگر تمام طبقات، سیاسی اداروں اور معاشی پیداواری قوتوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور منظم رہی ہیں۔ حالیہ آئینی ترامیم کے ذریعے آرمی چیف کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ، کمانڈ کی مدت میں توسیع اور قانونی کارروائیوں سے دائمی استثنیٰ دراصل اسی غیر متوازن عسکری طاقت کے اس غلبے کو قانونی سند دینے کی کوشش ہے جس نے پاکستان کو عملاً ایک ایسی ریاست میں بدل دیا ہے جہاں فیصلے عوام نہیں بلکہ عسکری ہیڈکوارٹرز کرتے ہیں۔
عالمی طاقتیں اور خلیجی بادشاہتیں پاکستان کے اس داخلی عدم توازن کو ختم کرنے کے بجائے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بیرونی آقاؤں کو پاکستان میں ایک ایسی غیر متنازع اور آمرانہ طاقت درکار ہوتی ہے جو بغیر کسی عوامی بحث، تنقید، یا جمہوری رکاوٹ کے راتوں رات فوجیوں کو سرحد پار بھیجنے کے معاہدوں پر دستخط کر سکے۔ منتخب پارلیمان اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے خوف سے بیرونی جنگوں میں الجھنے سے کتراتی ہے، جبکہ عسکری قیادت مالیاتی فوائد، عالمی اثر و رسوخ اور ہتھیاروں کے حصول کے عوض ایسے سودے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ہو یا ریاض، تمام طاقتیں اسلام آباد کی نمائشی حکومت کے بجائے راولپنڈی کی وردی پوش قیادت کے ساتھ براہِ راست لین دین کو ترجیح دیتی ہیں۔
اس تمام عسکری مہم جوئی کے پیچھے پاکستان کی تباہ حال معیشت کا وہ دیوالیہ پن کارفرما ہے جس نے حکمران اشرافیہ کو عالمی سطح پر سیکیورٹی کے تاجر میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ دہائیوں سے جاری بدانتظامی، غیر پیداواری معاشی ماڈل، اور بیرونی قرضوں پر پلنے والی طفیلی اشرافیہ کے پاس ایسا کوئی صنعتی یا زرعی اثاثہ نہیں بچا جسے برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکے۔ ایسی مجبوری کے عالم میں ریاست اپنی مسلح افواج اور سستے انسانی وسائل کو بین الاقوامی منڈی میں پیش کرتی ہے۔ خلیجی بادشاہتوں کے مرکزی بینکوں میں رکھے گئے ڈالرز کے ڈپازٹس، ادھار تیل کی فراہمی، اور پرانے قرضوں کے رول اوور کی اصل قیمت پاکستانی فوجیوں کے خون کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے ہی ہزاروں فوجی دستے سعودی سرزمین پر موجود ہیں اور نئے معاہدے کے تحت مزید نفری اور ہوائی اثاثے بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ فوج کسی قومی دفاع کے فریضے پر نہیں بلکہ خلیج کے ان مطلق العنان شاہی خاندانوں کے تخت اور تیل کی تنصیبات کی حفاظت پر مامور ہے جو اپنے ہی خطے کے مظلوم عوام کی آزادی اور حقوق کی تحریکوں کو کچلنے کے درپے ہیں۔ یمن کے مفلوک الحال عوام، جنہوں نے برسوں کی ناکہ بندی اور بمباری کے باوجود غیر ملکی تسلط کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے، اب ان کے خلاف پاکستانی سپاہیوں کو لڑانے کا خطرہ مول لیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے خونی دلدل میں جھونکنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے بلکہ وطنِ عزیز کے اندر بھی فرقہ وارانہ کشیدگی اور علاقائی پراکسی تنازعات کی آگ بھڑکنے کے دروازے کھل رہے ہیں۔
یہاں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ عسکری اشرافیہ اور اس کے تابع دار حاکم طبقات اتنے بڑے پیمانے پر ریاست کو کرائے پر چڑھانے اور ملکی خودمختاری کا سودا کرنے کے اس شرمناک کردار کو عوام کی نظروں سے کیسے چھپاتے ہیں؟ اس کا جواب اس زہریلے اور سوچے سمجھے داخلی بیانیے میں مضمر ہے جس کے ذریعے پاکستان کی مظلوم اور مختلف قومیتوں کے درمیان مصنوعی نفرت، تعصب اور تقسیم کی خلیج پیدا کی جاتی ہے۔ ریاست اپنی اس نوآبادیاتی دلال فطرت پر پردہ ڈالنے کے لیے مذہب اور سیکیورٹی کے نام نہاد خطرات کا ایسا ملغوبہ تیار کرتی ہے جس کا اصل مقصد عوامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہوتا ہے۔
اس ریاستی ایجنڈے کا سب سے خوفناک نشانہ پنجاب کے محنت کش اور کسان بنتے ہیں۔ پاکستانی فوج کی نچلی صفوں یعنی عام سپاہیوں کی اکثریت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ دیہی علاقوں کے غریب گھرانوں سے بھرتی کی جاتی ہے جو شدید بیروزگاری اور غربت کی دلدل سے نکلنے کے لیے فوج میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ مقتدر اشرافیہ ان محنت کشوں اور کسانوں کے ذہنوں میں ایک مصنوعی مہا پنجابی قوم پرستی اور جارحانہ ریاستی حب الوطنی کا نشہ انڈیلتی ہے۔ ریاستی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے پنجاب کے عام آدمی کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ریاست کی بقا صرف فوج کی مضبوطی میں ہے، اور جو کوئی بھی عسکری پالیسیوں، ریاستی جبر یا معاشی ناانصافی پر آواز اٹھاتا ہے وہ دراصل ملک توڑنے کا ایجنڈا لے کر چل رہا ہے۔
اسی تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولے کے تحت بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور سندھ کی محروم اقوام کی حقیقی، پرامن اور جمہوری تحریکوں کو غداری کا لیبل لگا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جب بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین یا بلوچ نوجوان اپنے وسائل، ساحل اور بقا کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو پنجاب کے مزدور اور طالب علم کے سامنے ان کو غیر ملکی ایجنٹ اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جب پشتون تحفظ موومنٹ قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگوں، ماورائے عدالت قتل اور بدامنی کے خلاف سوال اٹھاتی ہے، تو ان پر غداری کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور مقامی حقوق کی جدوجہد کو بھی صرف اس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے جہاں تک وہ عسکری بیانیے کے تابع رہے، بصورتِ دیگر ان کے جمہوری مطالبات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اس گھناؤنی سیاسی انجینئرنگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پنجاب کا کسان اور مزدور کبھی بھی بلوچ چرواہے، پشتون دہقان یا سندھی ہاری کے ساتھ طبقاتی اور انسانی بنیادوں پر جڑ نہ سکے۔ حاکم طبقات بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پنجاب کے عام محنت کش کو یہ ادراک ہو گیا کہ اس کا حقیقی استحصال وہی ریاستی اشرافیہ کر رہی ہے جو بلوچستان کے وسائل لوٹ رہی ہے اور پشتون سرزمین پر جنگی معیشت چلا رہی ہے، تو اس جبر کے نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ چنانچہ پنجاب کے پسماندہ طبقات کو ایک جھوٹے محافظ ہونے کا احساس دلا کر دیگر قومیتوں کے خلاف نفرت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ سارا غصہ اور محرومی آپس کی لسانی و قومی نفرتوں میں بہہ جائے اور اصل حکمران طبقے پر کوئی آنچ نہ آئے۔
اس منافقانہ بندوبست کا طبقاتی تضاد روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ریت کے ٹیلوں پر، بلوچستان کے پہاڑوں میں یا یمن کی سرحد پر جان دینے والا سپاہی کسی غریب کسان کا بیٹا ہوتا ہے جسے چند ہزار روپے کی تنخواہ اور شہادت کے رومانوی بیانیے کے بدلے موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب یہ سیکیورٹی سودے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں تو اس کے ثمرات، ڈالروں کے معاہدے، خلیجی تمغے، ریٹائرمنٹ کے بعد کثیر القومی کمپنیوں کی نوکریاں اور ڈی ایچ اے کے پوش پلاٹ انہی اعلیٰ جرنیلوں اور سویلین مراعات یافتہ طبقے کی تجوریوں میں جاتے ہیں جنہوں نے کبھی محاذ کی سختی نہیں دیکھی ہوتی۔
پاکستان کے سویلین سیاسی رہنما بھی اس تمام جبر میں برابر کے شریک ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلز پارٹی ہو یا ان کی اتحادی جماعتیں، ان کا وجود محض اس بات کا محتاج ہے کہ وہ عسکری فیصلوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے رہیں۔ حکومت کے وزراء اور ترجمان اس عسکری مہم جوئی کو سویلین اور ملٹری قیادت کا ”باہمی اعتماد“ قرار دے کر فخر سے پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان کی سیاسی بے حسی اور مفاد پرستی کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے پارلیمان کو ایک ایسی بے جان عمارت میں تبدیل کر دیا ہے جہاں آئینی ترامیم عوام کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ عسکری اداروں کے لا محدود اختیارات کو قانونی تحفظ دینے کے لیے منظور کی جاتی ہیں۔
جب تک پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی کو اس کرائے کے سیکیورٹی ماڈل کے چنگل سے آزاد نہیں کرایا جاتا، تب تک نہ ملک معاشی طور پر خود مختار ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہاں حقیقی جمہوریت پنپ سکتی ہے۔ خلیج کی ریت پر لڑی جانے والی جنگیں کبھی پاکستان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہو سکتیں، بلکہ یہ صرف اور صرف خطے کے آمروں اور عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگہبانی کرتی ہیں۔ ان معاہدوں کی رازداری چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ فیصلے کرنے والے خود جانتے ہیں کہ وہ عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں۔
اس تاریخی دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستان کے محنت کش طبقات، بالخصوص پنجاب کے عوام، اس جھوٹے قوم پرستانہ پروپیگنڈے اور لسانی تعصب کے جال کو توڑ کر باہر نکلیں۔ پنجاب کے مزدور اور کسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا حقیقی اتحادی راولپنڈی یا اسلام آباد کا مراعات یافتہ حاکم نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کا وہ مظلوم انسان ہے جو اسی طرح کے معاشی اور سیاسی جبر کی چکی میں پس رہا ہے۔ جب تک تمام مظلوم قومیتیں اور محنت کش عوام ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس ظالمانہ سیکیورٹی اسٹیٹ کے خلاف باہم متحد نہیں ہوتے، تب تک پاکستان کی خودمختاری غیر ملکی درہم و دینار کے عوض بکتی رہے گی اور عام انسانوں کے خواب اور زندگیاں اس کرائے کی سیاست کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C