کراچی: سینئر صحافی وارث رضا کو حراست میں لے لیا گیا
👁️ 147 بار دیکھا گیا
کراچی: سینئر صحافی وارث رضا کو حراست میں لے لیا گیا
کراچی (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے سینیئر صحافی وارث رضا کے مبینہ اغوا کے بعد پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے 23 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
وارث رضا کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ انھیں ’جمہوریت کی حمایت اور ہائبرڈ نظام کی مخالفت‘ کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
وارث رضا ان دنوں اردو روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سرکردہ رکن اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔
وارث رضا کی بیٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کی سیکریٹری اطلاعات ام لیلیٰ رضا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب گلشن اقبال کے بلاک فور اے میں پیش آیا جب ان کے والد اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’رات پونے تین بجے کے قریب ایک سفید کرولا کار اور دو رینجرز کی گاڑیوں میں افراد آئے جن میں سول ڈریس والے نقاب پوش والد سے مخاطب ہوئے۔ انھوں نے ان کا نام، کہاں کام کرتے ہیں کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ان کا موبائل فون اور بٹوا لیا اور کہا کہ تفتیش کے بعد انھیں چھوڑ دیں گے۔‘
لیلیٰ رضا کے مطابق ان کے والد کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون ہیں اور ان کے والد کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے تاہم ’کچھ دیر کے بعد والد کا فون آیا کہ انھیں تفتیش کے لیے لے کر جا رہے ہیں اور یہ کہ ان کے دوستوں کو مطلع کر دیا جائے۔ ایک گھنٹے کے بعد بہن کو والد کا فون آیا کہ وہ ایک گھنٹے میں واپس آجائیں گے لیکن وہ تاحال واپس نہیں آئے۔‘
وارث رضا کے اہلخانہ کی جانب سے تاحال اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ نہیں کیا اور اس سلسلے میں لیلیٰ رضا کا کہنا تھا کہ والد کے ٹیلیفون پر رابطے کی وجہ سے انھوں نے سمجھا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ چھوڑ دیں۔ اسی لیے وہ تھانے نہیں گئے تاہم اب وہ اپنے وکیل سے رابطہ کر رہے ہیں۔
کراچی میں مبینہ ٹاؤن پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ سندھ رینجرز کے ترجمان سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
62 سالہ وارث رضا کی پانچ بیٹیاں ہیں۔ وہ گردے کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں۔ لیلیٰ رضا کے مطابق گردے کی تکلیف کی وجہ سے وہ پندرہ روز ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ’ان کے ساتھ اگر ناروا سلوک کیا گیا تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘
لیلیٰ نے بتایا کہ ان کے والد پاکستان میں مستحکم جمہوری نظام کے حمایتی ہیں۔ ’وہ موجودہ نظام کو ’ہائبرڈ‘ سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف ہیں۔ اس کے خلاف فیس بک پر پوسٹ لکھتے رہتے تھے اور پچھلے دنوں انھوں نے ایکسپریس میں ایک کالم بھی لکھا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں انھیں اسی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔‘
وارث رضا نے 19 ستمبر کو روزنامہ ایکسپریس کیلئے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان ’جمہوریت دشمن اقدامات‘ تھا۔ اس میں وہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ ’صحافی، وکلا، انسانی حقوق کی تنظیمیں، طلبہ، ٹریڈ یونین اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ تحریک جوڑنی ہوگی تاکہ جمہوریت کو تلپٹ کرنے والے ’ہائیبرڈ نظام‘ کا مکمل صفایا کیا جاسکے۔‘
پی ایف یو جے نے وارث رضا کو ’حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی‘ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت سمجھتی ہے کہ چند لوگوں کی گرفتاری یا ان کے خلاف مقدمات سے سیاہ قوانین کے لیے راہ ہموار ہو گی تو یہ ان خام خیالی ہے۔‘
کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے بھی سینیئر صحافی وارث رضا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر صحافی کراچی پریس کلب اور @OfficialKUJ کے رکن @OfficialPfuj کی 70 سالہ تاریخی جدوجہد کو بطور مدیر کتابی شکل دینے والے وارث رضا کو رات گئے گھر سے حراست میں لے لیا گیا نامعلوم مقام پر منتقل،کے یو جے کی مذمت فوری رہائی کا مطالبہ @HamidMirPAK @MazharAbbasGEO @geofahmigeo pic.twitter.com/7aI0rC7VIh
— Karachi Union of Journalists (@OfficialKUJ) September 22, 2021
کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وارث رضا ایک سینیئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔
’انھوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی 70 سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا اہم کام بطور مدیر انجام دیا ہے۔ وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا حصہ رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے۔‘
کے یو جی کے مطابق وہ اس مبینہ گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے۔
سینیئر صحافی مظہر عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وراث رضا کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق انھیں پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 174 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 148 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4812 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3441 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C