13/July/2023

کرم تصادم: پاراچنار کمیونٹی کا آسٹریلیا کی دارالحکومت کینبرا میں احتجاجی مظاہرہ

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم تصادم: پاراچنار کمیونٹی کا آسٹریلیا کی دارالحکومت کینبرا میں احتجاجی مظاہرہ

کرم تصادم: پاراچنار کمیونٹی کا آسٹریلیا کی دارالحکومت کینبرا میں احتجاجی مظاہرہ

کینبرا (ج ح ط) پاراچنار کمیونٹی آسٹریلیا کا کینبرا میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے پاراچنار پر کئی روز سے ایک منصوبے کے تحت مسلط جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ہر طبقہ فکر کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جنگ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاراچنار پر مسلط کی گئی ہم ضلع کرم کے شیعہ سنی پاراچنار اور پورے ضلع میں امن چاہتے ہیں۔

لیکن عید نظر فاروقی جس نے 2007 میں بھی پاراچنار میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ لگائی تھی اس آگ میں ہزاروں بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ مظاہرین نے کہا کہ اس وقت سے لیکر آج تک جب بھی اس عید نظر کو موقع ملتا ہے یہ ہر جگہ اپنی تقاریر میں شیعوں پر کفر کے فتوے لگاتا پھرتا ہے اور شیعوں کے خلاف تکفیری ٹولے کو جہاد کی طرف راغب کرتا ہیں اور شیعہ کو مارنے پر جنت کے سرٹیفیکیٹ دیتا ہیں اور شیعوں کو کافر قرار دیتا ہیں۔

مظاہرین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ عید نظر المعروف یذید نظر ایک کٹھ پتلی ہے لیکن اسکے پیچھے جو تیسری قوت ہے جس نے (یذید نظر) کو گود میں بیٹھا کے ان سے یہ سب کچھ کروا رہا ہے پاکستان میں تیسری قوت یذید نظر سے جو مسلکی آگ لگا رہا ہیں یہ پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرناک ہے۔

پاکستان شیعہ سنی نے ملکر بنایا تھا اور یذید نظر اور اسکے ہم خیال و ہمنوا تکفیری ٹولہ اور اسکے پیچھے تیسری قوت جس نے ان کو گود میں بیٹھایا ہے ان کی ایما پر اس پرامن فضا کو سبوتاژ کرکے ایک بار پھر خطے کو جنگ کے شعلوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور ہم شیعہ سنی ملکر اس منظم سازش کو بے نقاب کرکے ناکام بنائیں گے۔

ضلع کرم میں زمینی تنازعات کافی عرصے سے چلے ارہے ہیں اس میں کچھ زمینی تنازعات کا فیصلہ کاغذات مال کی رو سے حکومت اور فریقین کے درمیان طے پایا تھا مگر ایک فریق کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عمل درآمد ممکن نہ ہوسکا اس سے پہلے بھی ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور وقتا فوقتا مزید جانیں ضائع ہو رہی ہے۔

مظاہرین نے کہا واقعہ کربلا ہمیں صبر اور تحمل کے درس کے ساتھ ساتھ ظلم اور جبر کے خلاف آواز حق بلند کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔

4 مئی کو تری منگل سکول میں ہمارے 4 شیعہ اساتذہ سمیت 7 افراد کو دن دہاڑے (یذید نظر) کے کہنے پر بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ تری منگل سکول کے ساتھ چند سو میٹر پر چیک پوسٹ ہونے کے باوجود معلوم دہشت گردوں کو پکڑنے کی بجائے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹ دی گئی بجائے اسکے کہ سارے سکول کے سٹاپ اور تری منگل کے مشران کو جنہوں نے اساتذہ کی سیکیورٹی کا ذمہ لیا ہوا تھا کو شامل تفتیش کرتے اور قاتلوں تک پہنچتے لیکن حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی حاموشی سے لگتا ہے کہ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے ورنہ آج تک قاتل پکڑے بھی جاتے اور انکو سزا بھی مل جاتی۔ حکومت نے جان بوجھ کر معلوم قاتلوں کو نامعلوم بتایا اور تقریبا دو مہینے گزر گئے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ اسکے برعکس باجوڑ ایجنسی میں ایک استانی کا قاتل چند گھنٹوں میں گرفتار ہوا اسی ناپاک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ملکی وزیراعظم اور سپہ سالار جوکہ مخافظ ہے نے تمام مصروفیات چھوڑ کر عید الاضحٰی پر پاراچنار کا دورہ کیا لوگوں کو گمان تھا کہ شاید مظلوم اساتذہ اور مزدوروں کے قاتلوں کو سزا دلوانے کا حکم شاید صادر ہو اور صحت اور تعلیم کے شعبے میں جو سابقہ سالار نے وعدے کئے تھے شاید پورا کرنے آئے ہے مگر حقیقت اسکی برعکس ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ ان کی واپسی کی چند روز بعد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منگل قبیلے کی طرف سے جن کا لیڈر عید نظر (یذید نظر) ہے نے بوشہرہ سے شروع کرکے پیواڑ ،بالش خیل، بغکی، مقبل تک پھیلائی۔ اس دوران ٹوپی ڈرامہ کرتے ہوئے ریاستی ادارے اور مقامی انتظامیہ کچھ علاقوں میں سیز فائر کراکے دوسرے علاقے میں جنگ کا آغاز کرتے رہے جسمیں قابل ذکر بات یہ ہیں کہ سیز فائر کے نام شیعہ نوجوان جو کہ دفاع کے لئے بیٹھے تھے وہ مورچوں سے اتار کر بارڈر کے اس طرف سے باڑ توڑ کر پاکستانی علاقوں کنج علیزئی اور پیواڑ پر حملے کئے جس کو روکنا سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری تھی مگر ریاستی مشینری اور سیکیورٹی ادارے تماشائی بنے رہے جسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی ایما اور سرپرستی میں ہورہا ہے گزشتہ کئی دنوں پاراچنار کو ہرطرف سے گھیر رکھا ہے اور جدید بھاری ہتھیاروں سے پاراچنار شہر سمیت اطراف کے تمام آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جسمیں نہتے معصوم شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام علاقوں میں فی الفور جنگ بندی کراو کر روڈ کھول دئے جائے جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تمام زمینی تنازعات کو کاغذات مال کے ذریعے حل کرواکر عملی جامہ پہنایا جائے اگر اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا سلسلہ بین الاقوامی سطح پر شروع کردینگے۔

کرم میں اساتذہ کے قتل کے بعد کیا ہوا؟

ضلع کرم میں اس سال مئی میں پانچ اساتذہ سمیت آٹھ افراد کے قتل کے بعد حالات کشیدہ رہے ہیں۔ واقعات کچھ یوں رپورٹ ہوئے تھے کہ ایک گاڑی پر فائرنگ سے محمد شریف نامی استاد کو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کیے گئے تھے کہ شیعہ اکثریتی علاقے میں سنی استاد کو قتل کر دیا گیا ہے جس کے بعد ایک سکول کے سٹاف روم میں موجود اساتذہ سمیت سکول کا عملہ موجود تھا جن پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کردی تھی۔

ان واقعات کے بعد علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جہاں سکول کالج اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C