17/November/2021

کشمیر: بھارتی فوج پر جعلی مقابلے میں تین افراد کو ہلاک کرنے کا الزام

👁️ 31 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کشمیر: بھارتی فوج پر جعلی مقابلے میں تین افراد کو ہلاک کرنے کا الزام

کشمیر: بھارتی فوج پر جعلی مقابلے میں تین افراد کو ہلاک کرنے کا الزام

سری نگر (ڈیلی اردو) بھارتی فورسز کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد شدت پسند اور ان کے حامی تھے تاہم اہل خانہ نے پولیس کے بیان کو جھوٹا بتایا ہے۔ اس دوران کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پھر تلخ کلامی ہوئی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فورسز نے معروف شہر سرینگر کے حیدر پورہ میں پیر کی رات کو ایک تصادم میں چار افراد کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہی مقامی لوگ اور متاثرین کے اہل خانہ پولیس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پیر کی رات کو ہونے والے اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے، جس میں دو مقامی تاجر اور ایک مزدور بھی شامل ہے۔ جس عمارت میں یہ واقعہ پیش آيا اس کے مالک الطاف حسین کی دوکان بھی وہیں تھی جبکہ ایک ڈاکٹر مدثر گل بھی اس عمارت سے اپنا کاروبار چلا رہے تھے۔ یہ دونوں بھی مارے گئے۔

پولیس کے مطابق اس تصادم میں ایک پاکستانی شدت پسند اپنے مقامی عسکریت پسند عامر کے ساتھ ہلاک ہوا۔ تاہم متاثرین کے اہل خانہ کے بیانات اور پولیس کے متضاد بیانات سے جہاں اس پر سوال اٹھ رہے ہیں وہیں اس واقعے کی دیگر تفصیلات بھی سامنے آتی جا رہی ہیں۔

معاملہ کیا ہے؟

پولیس نے اپنے پہلے بیان میں کہا تھا کہ جس عمارت میں تصادم ہوا اس کے مالک کے ساتھ ہی ایک ڈاکٹر بھی ہلاک ہو گئے اور وہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ پھر بعد میں پولیس نے اپنے دوسرے بیان میں کہا کہ وہ کراس فائرنگ میں مارے گئے ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔

اس کے بعد پولیس اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ اس مبینہ تصادم میں ہلاک ہونے والے دونوں تاجر شدت پسندوں کے حامی تھے جبکہ عامر نامی مقامی مزدور عسکریت پسند تھا۔ پولیس اس حوالے سے حسب معمول بعض ہتھیاروں کے برآمد ہونے کی بات کہہ رہی ہے۔

اہل خانہ کا موقف

لیکن متاثرین کے اہل خانہ نے پولیس کے ان تمام بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ دونوں تاجروں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔ اہل خانہ نے پولیس سے متاثرین کی لاشیں دینے کا مطالبہ کیا تاہم بھارتی فورسز نے وہ بھی دینے سے انکار کر دیا اور شہر سے سو کلومیٹر دور ہندوارہ میں فوج نے انہیں دفن کر دیا۔

الطاف بھٹ کی بھتیجی صائمہ بھٹ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، “تم نے میرے بے گناہ چچا محمد الطاف بھٹ کو حیدر پورہ میں بے رحمی سے قتل کر دیا، تم نے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور اب کہہ رہے ہو کہ وہ شدت پسندوں کے حامی تھے۔ ان کی جسد خاکی تو ہمیں واپس کر دو۔”

اہل خانہ کی تمام کوششوں کے باوجود پولیس نے ان کی لاشوں کو گھر والوں کے حوالے نہیں کیا۔ ڈاکٹر مدثر کے بھی اہل خانہ نے پولیس کے اس بیان کو، “جھوٹ بتایا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے لیے کام کرتے تھے۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C