12/January/2020

کوئٹہ مسجد میں خودکش دھماکا…؟ (میر افضل خان طوری)

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوئٹہ مسجد میں خودکش دھماکا…؟ (میر افضل خان طوری)

کوئٹہ مسجد میں خودکش دھماکا…؟ (میر افضل خان طوری)

گزشتہ روز صوبہ بلوچستان کے صوبائی حکومت کوئٹہ شہر کے سیٹلائٹ ٹاون مسجد میں خوفناک خودکش دھماکا ہوا۔ اس دھماکے میں امام مسجد سمیت ایک درجن سے زیادہ نمازی جام شہادت نوش کر گئے اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ سب سے پہلی کوتاہی تو ہمارے ملک کے سیکیورٹی اداروں کی نظر آرہی ہے۔ محترم آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئٹہ کو محفوظ شہر بنانے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ مگر ان سب دعووں کے باوجود دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایسے واقعات سے پاکستان کی پوزیشن بیرون ملک بھی خراب ہو رہی ہے۔ ملک کی سیکیورٹی صرف اداروں کی ہی زمہ داری نہیں ہے۔ ہر ایک پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کی سر زمین کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔ اس ملک کی سیکیورٹی ہم سب کا اولین فرض ہونا چاہئے۔ ملک میں موجود مشکوک عناصر پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔ ملک کے تمام مساجد کے انتظامیہ کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی مسجد کی سیکیورٹی کے حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات کرے۔ ہمیں کسی صورت بھی اپنی حفاظت سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے اس ملک کی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مسلسل ہمارے ہرے بھرے گھر اجڑ رہے ہیں۔ ہمارے بچے یتیم ہو رہے ہیں۔ والدین بے سہارا اور عورتیں بیوا ہو رہی ہیں۔ ہم سب کو اس کا احساس ہونا چاہئے۔
کوئٹہ دھماکہ میں ایک ڈی یس پی امان اللہ بھی شہید ہوگئے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے جوان بیٹے کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔ انکے یتیم بچوں کی زمہ داری ڈی ایس پی امان اللہ کے زمہ تھی۔ اب کوئٹہ دھماکے میں اس کی بھی شہادت ہوچکی ہے۔ انکے یتیم پوتوں سے آخری سہارا بھی چھین لیا گیا۔ دہشت گرد بےحد سفاک اور ظالم ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ کسی انسان پر وہ کتنا ظلم ڈھا رہے ہیں۔

مسجد کے اندر دھماکہ ہوا۔ مسلمانوں کو نماز کے دوران خون میں نہلایا گیا۔ امام مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کتنے مولویوں نے اس بے انتہا جرم کی مذمت کی۔ کتنے مذہبی تنظیموں کے لوگوں نے اس توہین مسجد پر احتجاج کیا۔ اگر یہی واقع کسی غیر مسلم ملک میں رونما ہو جاتا اور اس طرح بےگناہ نمازیوں کو خون میں نہلایا جاتا تو ہمارے مولوی اور دین کے نام نہاد ٹھیکیدار ضرور آسمان سر پر اٹھاتے۔ ملک کی گلی گلی میں احتجاجی مظاہرے کرتے۔ مگر افسوس کہ ایسے عناصر کو اپنے صفوں میں موجود اسلام دشمن نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کو پاکستانی مساجد اور امام بارگاہوں کی توہین نظر نہیں آرہی ہے۔

کوئٹہ دھماکہ پر ہمارے عقیدے اور مذہبی جذبات ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ ہمارے دل اس ظلم پر پھتر بن چکے ہیں۔ ہمارے آنکھوں پر غفلت کے پردے پڑ چکے ہیں۔ ہماری بصارت جواب دے چکی ہے۔ ہمارا احساس دفن ہو چکا ہے۔ مسلمان تو ایک جسم کے مانند ہوتے ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو اس کھلی بربریت اور مسلمانوں کی المناک شہادت پر ہمیں ضرور بے چین ہونا چاہئے۔ اگر اہم ان کے دکھ پر بے چین نہیں ہیں۔ اگر ہم انکے دکھ پر غمگین نہیں ہیں تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہئیے کہ کیا ہم مسلمان کہلانے کے قابل ہیں؟ کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔ آج ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ ہم کوئٹہ شہداء کے دردناک سانحہ کو بھول چکے ہیں۔ ہم نے اس واقعے میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے اور زمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ہم نے حکمرانوں سے مسجد کی سیکیورٹی میں غفلت برتنے والوں کیخلاف تحقیقات کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں توہین اور ظلم صرف باہر کی دنیا میں نظر آجاتا ہے۔ جب بات گھر پر آجاتی ہے تو ہم گونگے، بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C