02/July/2021

کوئٹہ میں فوجی قافلے کے قریب دھماکا، دو افسران سمیت 8 اہلکار زخمی

👁️ 33 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوئٹہ میں فوجی قافلے کے قریب دھماکا، دو افسران سمیت 8 اہلکار زخمی

کوئٹہ میں فوجی قافلے کے قریب دھماکا، دو افسران سمیت 8 اہلکار زخمی

کوئٹہ (ڈیلی اردو) صوبہ بلوچستان کے صوبائی حکومت کوئٹہ میں پاک فوج قافلے کے قریب دھماکے میں دو افسران سمیت آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ایئرپورٹ روڈ پر فاطمہ جناح پارک کے قریب پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہوا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے جبکہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دھماکا ائیرپورٹ روڈ پر رات ساڑھے 8 بجے ہوا، بم موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں دو افسران بھی شامل ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے ہمارے حملے شدت کیساتھ قابض افواج کی انخلاء اور بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ دھماکے میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے جبکہ ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پاک فوج کی 6 گاڑیاں قافلے کی صورت میں آرہی تھیں جبکہ موٹر سائیکل میں بم نصب کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 3 سے 4 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور دھماکے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے ملک میں کارروائیاں کررہا ہے، افغانستان میں قیام امن سے ہی بلوچستان میں بھی امن آئے گا۔

جائے وقوعہ کے قریب موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ پارک کی ایک کینٹین پر تھے کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ایک گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ دھماکہ خوفناک تھا جس سے قرب و جوار کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ کوئٹہ چھاﺅنی کا علاقہ ہے تاہم یہ چھاﺅنی کے حساس علاقوں سے کچھ فاصلے پر ہے۔

ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ شہر کی اہم سڑک ہے اور کوئٹہ کے شمالی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے شمالی علاقوں کی ٹریفک کی آمد و رفت اسی علاقے سے ہوتی ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ چند مہیںوں میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت آئی ہے۔

خیال رہے کہ 25 جون کو بلوچستان کے ضلع سبی میں دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

مئی کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں ‘سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے’ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

گزشتہ ماہ کے آغاز میں بلوچستان میں دو الگ الگ حملوں میں 4 ایف سی اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C