22/December/2019

کوالالمپور سمٹ میں پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟ (علی جواد طوری)

👁️ 112 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوالالمپور سمٹ میں پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟ (علی جواد طوری)

کوالالمپور سمٹ میں پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟ (علی جواد طوری)

کوالالمپور سمٹ میں ان اسلامی ممالک کی کانفرنس منعقد ہوئی جو آزاد و خود مختار آزاد خارجہ پالیسی رکھتے ہیں اور امریکی ظلم و ستم کے خلاف ایک متحرک و منظم جدوجہد کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ اسلامی ممالک کی تنظیم سعودیہ کے ہوتے ہوئے مسلم ممالک کے کسی بھی مسلے پر آواز اٹھانے کے قابل نہیں کیونکہ سعودیہ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی آشیرباد کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں گزار سکتے۔ اور سعودیہ ہی کی بدولت اسرائیل نے فلسطین ہڑپ کرلی اور کشمیر ان کے مدد سے انڈیا ہڑپ کرنے لگا ہے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ سعودیہ امریکی و اسرائیلی کیمپ میں ہونے کی بناء پر اسلامی ملکوں کے اقتصاد اور قوت کیلئے شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔ اور آج اسلامی دنیا کو عرب و عجم اور سنی و شیعہ کے نام پر تقسیم کیا ہوا ہے۔
اسی آثناء میں امریکہ میں ڈیڈھ دو ماہ قبل اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ترکی ملائیشیا اور پاکستان کے سربراہان حکومت نے مل کر ایک اور گروپ بنانے کا سوچھا تاکہ اسلامی دنیا کا ایک متحرک آواز بن کر ابھرے۔
ان ممالک میں سرکردہ ممالک ملائیشیا اور ترکی و ایران و قطر نے پاکستان کی ہر موقع پر ساتھ دیا ہے۔ خصوصا” پیچھلے ماہ ایف ڈی اے کے اجلاس میں بھی ملائیشیا نے پاکستان کو ووٹ دیا اور سعودیہ نے ووٹ نہیں دیا۔ اقوام متحدہ میں کشمیر پر ترکی اور ملائیشیا نے آواز اٹھائی ، اور اسکے مقابلے میں سعودیہ نے پاکستان کو متنباہ کیا کہ کشمیر امہ کا مسلہ نہیں بلکہ یہ انڈیا کا اندرونی مسلہ ہے۔ اور انڈیا میں مسلمانوں کے مسائیل پر بھی ایران ترکی اور ملائیشیا نے آواز اٹھائی اور سعودیہ نے چپ کا روزہ رکھا ہے۔ بلکہ انہی دنوں مودی کو سعودیہ اور امارات نے باقاعدہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز سے نوازا۔
اور اب جو پاکستان کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنے جارہا تھا۔ جہاں پاکستان کو عالمی فورم پر انڈیا کے مسلمانوں کے خلاف شہریت کے مسلے کو بھی عالمی طور پر اجاگر کر سکتا تھا۔ تو سعودیہ نے پاکستانی وزیر اعظم اور پوری پاکستانی قوم کی انتہائی بیعزتی کرتے ہوئے ایک وزیر اعظم کو غلام کی طرح فورا” حاظر ہونے کا کہا اور وہ بھی بھاگے بھاگے گیا۔ چاہیے تو یہ تھا اگر سعودیہ نے پاکستان کو کانفرنس میں جانے سے روکنا ہی تھا تو کم از کم وزیر خارجہ یا کوئی ایلجی ہی بھیج دیتے۔ تاکہ پاکستان کو منا لیتے۔ لیکن ہماری آوقات ہی اتنی تھی جس کے بناء پر انہوں نے سعودیہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہمیں ہی حکم دیا۔ حالانکہ جب ھم انڈیا کیساتھ حالت جنگ میں تھے تب اسلامی کانفرنس میں انڈیا کے وزیر خارجہ انجہانی ششما سوراج کو مدعو کیا اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود سعودیہ نے کہا کہ اب یہ دعوت ہوچکی ہے آپ آئے یا نہ آئے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور پاکستان نے احتجاجا” شرکت نہ کی۔ یعنی سعودیہ و امارات پاکستانی مفادات پر ہمیشہ کاری ضرب لگاتی آئی ہیں اور پاکستان سعودیہ میں بادشاہت کی تحفظ کیلئے بیس ہزار فوجیوں کو رکھا ہے اور یمن میں سعودیہ کے مفادات کیلئے کرائے کے ٹٹو و بخشو بن کر لڑ رہا ہے۔
آب کوالالمپور کانفرنس نے جو اہم فیصلے کئے ان میں سب سے اہم ایرانی صدر کی تجویز کردہ ڈیجیٹل اسلامی ممالک کی خود کی کرنسی کا آجراء جسے سب شریک ممالک نے سراہا۔ اسکے علاوہ جو ترکی ملائیشیا اور پاکستان کی مشترکہ ٹی وی چینل بنانا تھا اس سے ہاکستان کو الگ کیا۔ اب وہ سب اسلامی ممالک ایک آزاد و خود مختار ممالک کی باوقار قیادت کے طور پر عالمی دنیا میں پہچانے جائینگے۔ اور ہماری قوم کا وقار عرب بدووں نے عمران خان کے ہاتھوں مجروح کیا۔ ہم سنتے تھے عمران خان سے کہ آزاد و خود مختار قوموں کے رہنما وقت پر اہم فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن آج ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا کے ترقی پزیر ممالک میں ہمیں غلامی میں کھینچا جا رہا ہے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم عمران خان ان کا آلہ کار بن کر ملک کو غلامی کے چوک پر صحیح راستے کے بجائے غلط راستے پر گامزن کیا گیا۔ پاکستان کے عوام سے عمران خان نے جو جو وعدے کیے تھے جن میں معاشی بہتری کیساتھ ساتھ آزاد و خود مختار قومی خارجہ پالیسی بنانا جس میں ملک اور قوم کا وقار بڑھے گا۔ لیکن کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر آج مجھ سمیت پاکستان کے سارے غیرت مند لوگوں کو مایوس کردیا۔ اللہ تعالی’ ملک کو سچا رہنما عطا کرے۔ جو جھوٹ نہ بولے وعدوں کو ایفاء کراسکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C