یوکرین روس جنگ: یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی
👁️ 29 بار دیکھا گیا
یوکرین روس جنگ: یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی
پیرس (ڈیلی اردو/ ڈوئچے ویلے) جوہری ہتھیار سرد جنگ کا ایک نشان قرار دیے جاتے ہیں۔ حالیہ روسی دھمکی سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ایک مرتبہ پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس صورتِ حال میں یورپ کے پاس جوابی کارروائی کا سامان کیا ہے؟
یوکرینی جنگ سے قبل روسی صد ولادیمیر پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کو الرٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس اعلان سے سارا یورپ ششدر رہ گیا تھا۔ اوائل مارچ میں پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کی حامل آبدوزیں اور موبائل میزائل دستوں کو بھی فوجی مشقوں کا حصہ بنا دیا تھا۔ کیا یہ کسی جوہری حملے کی دھمکی تھی؟
روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ان کی تعداد چھ ہزار تین سو بتائی جاتی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں امریکہ سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہزار آٹھ سو ہے۔ فرانس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا حجم تین سو ہے جبکہ برطانیہ دو سو پندرہ ایسے ہتھیار رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ ان ہتھیاروں کی حامل اقوام اس بابت معلومات خفیہ رکھتی ہیں۔
جوہری حملے میں یورپ کا تحفظ
بظاہر یورپ کو امریکہ کی جانب سے جوہری چھتری میسر ہے لیکن اس کے باوجود یورپ کسی جوہری حملے کو روکنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسا بھی گمان ہے کہ امریکی چھتری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی بھی ملک مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ملک پر جوہری حملے کی جرات نہیں کر سکتا اور ایسی صورت میں جارح کو بھی جوابی حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیٹو کی جوہری قوت جوابی دھمکی یا ڈیٹرینس دینے کے مفروضے پر قائم ہے۔ فرانس اور برطانیہ کم از کم ڈیٹرینس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس جوہری حملے کا جواب دینے کی صلاحیت تو کم از کم موجود ہے اور بقیہ یورپی ممالک کا انحصار امریکہ پر ہے۔
دوسری جانب امریکا کا ڈیٹرینس جوہری ہتھیاروں پر ہی منحصر ہے اور ان ہتھیاروں کی قوت بھی کم کی جا چکی ہے۔ امریکی عسکری ماہرین محدود جوہری جنگ کے ممکن ہونے کا مفروضہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔
قانونی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی شہری علاقے پر بھاری اثرات کے حامل جوہری ہتھیاروں کا استعمال انٹرنیشنل ہیومینٹیرین قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی ڈیٹرینس میں جرمن حصہ
اگر یورپی جوہری ڈیٹرینس میں جرمن حصے کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جرمن ایئر فورس کے زیرِ استعمال ٹورنیڈو جنگی جہاز ہیں۔ یہ جنگی جہاز جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں قائم بیوشل ایئر بیس پر کھڑے ہیں۔
کسی ہنگامی صورت حال میں یہ جنگی ہوائی جہاز امریکی جوہری ہتھیاروں کو لے کر ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی مشق ٹورنیڈو جنگی جہاز سالانہ بنیاد پر جعلی بم پھینک کر بھی کرتے ہیں۔
نیدرلینڈز، بیلجیم اور اٹلی بھی نیٹو کے ایسی مشقوں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ اس وقت ایک سو سے ایک سو پچاس جوہری ہتھیار یورپ میں ہتھیاروں کے مختلف گوداموں میں رکھے ہوئے ہیں تا کہ بوقت ضرورت جرمن طیارے انہیں ہدف کی جانب لے جا سکیں۔
برلن میں قائم جرمن انسٹیٹیوٹ برائے انٹرنیشنل اسٹدیز (SWP) اور سکیورٹی افیئرز کے پولیٹیکل سائنٹسٹ پیٹر روڈولف کا کہنا ہے کہ یہ بم گئے زمانوں کی یادگاریں ہیں اور ان کی فوجی اہمیت آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے بموں کے استعمال سے قبل دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنا بھی اہم ہے، جو مناسب صلاحیت سے ممکن ہے۔
جرمن چانسلر اولاف شولس کا کہنا ہے کہ جوہری ڈیٹرینس میں جرمنی کے حصہ کو زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اسی دوران جرمن وزیر دفاع کرسٹینے لامبریشٹ نے کہا ہے کہ جرمن ایئر فورس کے عمر رسیدہ ٹورنیڈو طیاروں کی جگہ ان کا متبادل امریکی ساختہ ایف پینتیس جنگی ہوائی جہازوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ امریکی جہاز بھی جوہری ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت کون دے گا؟
امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جرمنی، اٹلی، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں واقع گوداموں میں رکھے امریکی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے سکتے ہیں۔ پہلے وہ ان ہتھیاروں کو گودام سے نکالنے کی اجازت دیں گے اور پھر انہیں جنگی طیارے سے ہدف پر گرانے کی رضامندی ظاہر کریں گے۔ اس مناسبت سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا اصولی فیصلہ بھی درکار ہو گا۔
فرانس کی جانب سے اسی قسم کی کسی کارروائی کا اختیار فرانسیسی صدر کے پاس ہے اور برطانوی وزیر اعظم بھی ایسا اختیار رکھتے ہیں۔ ان تین ملکوں کے ڈیٹرینس کی وجہ سے دشمن یا مخالف قوت اس کا احساس نہیں کر سکے گی کہ نیٹو کس سمت سے حملہ کرے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 115 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 148 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 268 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 151 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2467 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C