27/October/2026

اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے، چرچ پر حملے سے منسلک گروپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ہلاکتوں کی اطلاعات

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے، چرچ پر حملے سے منسلک گروپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ہلاکتوں کی اطلاعات

اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے، چرچ پر حملے سے منسلک گروپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ہلاکتوں کی اطلاعات

عمان/دمشق(ڈیلی اردو) اردن کی فضائیہ نے جنوبی شام میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اردنی فوج کے مطابق یہ کارروائی اردن کے صوبے کرک میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد کی گئی، جس میں 9 افراد ہلاک اور کم از کم 34 زخمی ہوئے تھے۔ اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کا تعلق شام میں سرگرم مسلح گروپوں سے تھا۔

اردن کی فوج نے اس کارروائی کو ’’اردنی ڈیٹرنس—حمود‘‘ کا نام دیا۔ فوجی بیان کے مطابق شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی شام میں مبینہ دہشتگرد گروپوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اور متعدد گاڑیاں اور تنصیبات تباہ ہوئیں۔ تاہم اردنی حکام نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد، نشانہ بنائے گئے مقامات اور متعلقہ گروپوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی حکام نے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ درعا کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم پانچ شہری ہلاک ہوئے۔ شامی ذرائع نے اردن کے اس مؤقف سے مختلف تفصیلات پیش کیں کہ کارروائی میں صرف مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے تمام نقصانات اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

یہ فضائی کارروائی اردن کے شہر کرک کے گاؤں حمود میں سینٹ جارج یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں 23 اکتوبر کو ہونے والی فائرنگ کے بعد کی گئی۔ واقعے کے وقت چرچ میں جنازے کے لیے لوگ جمع تھے۔ مسلح حملے میں 9 افراد ہلاک اور کم از کم 34 زخمی ہوئے۔ اردنی حکام نے بعد ازاں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا، جنہیں ایک کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی ملا۔ تاحال کسی تنظیم نے چرچ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

روئٹرز کے مطابق اردنی فوج نے کہا کہ فضائی حملوں سے پہلے دمشق کے ساتھ رابطہ اور رابطہ کاری کی گئی تھی، تاہم شامی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات میں کارروائی کے طریقۂ کار اور شہری نقصانات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اردن اور شام کے درمیان سرحد پار سکیورٹی، مسلح گروپوں کی سرگرمیوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C