اسلامی اقدار نظر انداز کرنے کا الزام: طالبان نے دو ٹی وی اسٹیشنز کی نشریات معطل کر دیں
👁️ 155 بار دیکھا گیا
اسلامی اقدار نظر انداز کرنے کا الزام: طالبان نے دو ٹی وی اسٹیشنز کی نشریات معطل کر دیں
کابل (ڈیلی اردو/وی او اے/اے پی) افغانستان میں طالبان نے دو ٹیلی وژن اسٹیشنوں کی نشریات یہ الزام لگاتے ہوئے معطل کر دیں ہیں کہ وہ اسلامی اور قومی اقدار کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
افغانستان کی وزارت اطلاعات کے میڈیا قواعد کی خلاف ورزیوں سے متعلق کمشن کے ایک عہدے دار حفیظ اللہ بارکزئی نے کہا ہے کہ ایک عدالت کابل میں قائم ان دو ٹیلی وژن اسٹیشنوں کے ریکارڈ کی چھان بین کرے گی۔ اور عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے تک نور ٹی وی اور بریا ٹی وی بند رہیں گے۔
بارکزئی نے منگل کو کہا کہ بار بار کے انتباہات اور سفارشات کے باوجود، نور ٹی وی اور بریا ٹی وی نے صحافتی اصولوں پر عمل نہیں کیا، انہوں نے قومی اور اسلامی اقدار کا خیال نہیں کیا۔
انہوں نے مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بہت سے صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ میڈیا کے کئی ادارے فنڈز کی کمی یا اپنے عملے کے ملک چھوڑ جانے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ جب کہ خواتین صحافیوں کو کام سے متعلق عائد ہونے والی پابندیوں اور سفری پابندیوں کی وجہ سے اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دونوں ٹیلی وژن اسٹیشنوں نے اپنی نشریات معطل کیے جانے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
نور ٹی وی کی نشریات 2007 میں شروع ہوئی تھیں اور اس ٹی وی چینل کو ملک کے سابق وزیر خارجہ اور جماعت اسلامی کے ایک رہنما صلاح الدین ربانی کی حمایت حاصل ہے۔
بریا ٹی وی نے 2019 میں اپنی نشریات شروع کیں تھیں۔ یہ ٹی وی اسٹیشن سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی پارٹی کے ایک عسکری رہنما گلبدین حکمت یار کی ملکیت ہے۔ حکمت یار کابل میں ہی مقیم ہیں۔
افغانستان جرنلسٹ سینٹر نے دو ٹیلی وژن اسٹیشنوں کی نشریات کی معطلی کو طالبان کے کنٹرول کی حکومت کا غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ معطلی کی یہ کارروائی ملک میں میڈیا پر مزید پابندیوں کی طرف ایک اور قدم ہے۔
جرنلسٹ سینٹر نے اپنی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اس نے صحافیوں کی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کم ازکم 168 واقعات کو ریکارڈ کیا ہے جن میں ایک ہلاکت اور 61 گرفتاریاں شامل ہیں۔
تاہم یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں کم ہے، جس میں افغانستان جرنلسٹ سینٹر نے 260 واقعات کا اندراج کیا تھا۔ مرکز کا کہنا ہے کہ 2023 میں 8 میڈیا آؤٹ لیٹس پر پابندی عائد کی گئی، پانچ کو عارضی طور پر کام کرنے سے روکا گیا جب کہ تین پر مکمل پابندی لگائی گئی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خاران میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، بی ایل اے کے 9 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
ہنگو: ٹل میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، ٹی ٹی پی کے 4 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
شام : سابق نظام سے وابستہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں، 2 افراد گرفتار، دوسری سیل بھی پکڑی گئی
06/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے حیس کو حوثیوں کے قبضہ سے آزاد کردیا، مکمل کنٹرول کا اعلان
06/September/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
مستونگ میں قومی شاہراہ سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد
06/September/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
ہرات : نوجوان کو مبینہ تشدد کے بعد طالبان نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا
06/September/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11809 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9103 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7394 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5092 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C