08/February/2026

اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملے میں 13 افراد کی نماز جنازہ ادا

👁️ 201 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملے میں 13 افراد کی نماز جنازہ ادا

اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملے میں 13 افراد کی نماز جنازہ ادا

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں شیعہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی نماز جنازہ ترلائی کلاں میں ادا کر دی گئی۔

 

نماز جنازہ میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف اور راجہ خرم نواز سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس، اے ٹی ایس اور سی ٹی ڈی کی بھاری نفری تعینات تھی۔

 

نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کر دیا گیا۔

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے اس دھماکے میں مجموعی طور پر 36 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو گئے ہیں۔

 

کالعدم شدت پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ 

 

ڈیلی اردو کے مطابق یہ دعویٰ گروپ کے ٹیلیگرام چینلز پر سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا کہ حملے کے پیچھے داعش کا پاکستان میں فعال گروہ ہے اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔

 

یہ واقعہ 2008 میں میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اُس وقت کے حملے میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

داعش ماضی میں بھی پاکستان کی شیعہ برادری کو نشانہ بناتی رہی ہے، جن میں 2022 میں پشاور کی ایک مسجد پر خودکش حملہ بھی شامل ہے۔ پاکستان کی شیعہ آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصّہ ہے اور یہ لوگ اکثر حملوں اور مذہبی بنیاد پر الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C