21/July/2026

تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ

👁️ 185 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ

تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی عرب نے یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن، بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

 

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کا اعلان ناقابل قبول ہے اور مملکت اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کے اس الزام کو بھی مسترد کیا گیا کہ سعودی عرب یمنی عوام کا محاصرہ کر رہا ہے۔

 

وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب یمن کے عوام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا اور خطے میں استحکام کے لیے اپنی کوششیں برقرار رکھے گا۔

 

دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اتحاد کے مطابق اگر حوثیوں نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا بحری گزرگاہوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا مؤثر اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔

 

یہ ردعمل ایک روز قبل حوثی تنظیم انصار اللہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں تنظیم نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 

انصار اللہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی یمن پر عائد محاصرے کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش ناقابل قبول ہے اور “بندش کا جواب بندش سے دیا جائے گا۔”

 

حوثیوں نے حالیہ دنوں سعودی عرب پر صنعا ائیرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا اور اس کے جواب میں کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں تنظیم نے سعودی عرب کی جانب میزائل داغے، تاہم سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔

 

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ بیانات کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C