07/February/2026

اسلام آباد خودکش حملہ: داعش نیٹ ورک کی بڑی گرفتاریاں، اہم انکشافات

👁️ 412 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد خودکش حملہ: داعش نیٹ ورک کی بڑی گرفتاریاں، اہم انکشافات

اسلام آباد خودکش حملہ: داعش نیٹ ورک کی بڑی گرفتاریاں، اہم انکشافات

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ پر جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد جاری تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

 

پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر اور اس کا بہنوئی عثمان پشاور کے علاقے ترناب فارم سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ابتدائی گرفتاریوں اور تحقیقات کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مبینہ خودکش بمبار کے بھائی اور بہنوئی اس حملے سے آگاہ تھے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس پاکستان آیا۔ واپسی کے بعد وہ جون میں باجوڑ گیا جہاں اس نے سم کارڈ ایکٹیویٹ کیا۔ بعد ازاں یاسر 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا اور پھر نوشہرہ کینٹ کے علاقے حکیم آباد منتقل ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد میں واقع امام بارگاہ کی ریکی بھی کی تھی۔

 

پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یاسر کے گھر پر چھاپہ مارا اور دو بھائیوں اور والدہ سمیت چار افراد کو حراست میں لیا۔ اس کے علاوہ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کی والدہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 سے گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ روز اسلام آباد پہنچی تھیں۔ 

 

تفتیشی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور حملے سے قبل اپنی والدہ سے رابطے میں تھا اور اس نے حملے سے پہلے والدہ سے اجازت بھی مانگی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل آخری بار بھی ملزم نے موبائل فون کال پر والدہ سے بات کی تھی۔

 

جائے وقوعہ سے مبینہ حملہ آور کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا، جس کے مطابق اس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور درج ہے۔

 

تفتیشی حکام کے مطابق یاسر پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔

 

پشاور میں گرفتاری کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے نوشہرہ میں مبینہ خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے دوران ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

فائرنگ کے تبادلے میں پولیس افسر اے ایس آئی اعجاز خان اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک فوجی افسر، پولیس کے اے ایس آئی شیر خان، کانسٹیبل حضرت علی سمیت مجموعی طور پر پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک اور زخمی اہلکاروں کو ملٹری اسپتال نوشہرہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

 

واقعے کے بعد پورے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پشاور اور نوشہرہ سے گرفتار ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔

 

حکام کے مطابق ان گرفتاریوں کے نتیجے میں مزید ملزمان کی نشاندہی کا امکان ہے۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ کرنے والا حملہ آور پشاور کا ہی رہائشی تھا، جس کی تلاش کے لیے یہ کارروائی کی جا رہی تھی۔ 

 

پولیس اور سیکیورٹی ادارے یاسر کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور رابطوں کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

 

داعش نے ذمہ داری قبول کرلی 

 

دوسری جانب عالمی شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور سیف اللہ انصاری تھا۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مبینہ حملہ آور کا اصل نام یاسر ہے، جبکہ سیف اللہ انصاری اس کا جہادی نام بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق پشاور سے تھا۔

 

اسلامک اسٹیٹ کے دعوے میں شامی تنازع اور زینبیون بریگیڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ حملہ مارچ 2022 میں پشاور کی کوچہ رسلدار شیعہ مسجد پر ہونے والے خودکش دھماکے کے مشابہ ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ حملہ آور مقامی تھا۔ 

 

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے میں مجموعی طور پر 35 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 29 کی حالت نازک ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہیں۔

 

زینبیون بریگیڈ کا حوالہ

 

 داعش کی جانب سے جاری کردہ حالیہ پریس ریلیز میں شامی تنازع اور زینبیون بریگیڈ کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کا تعلق شام میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عسکریت پسندوں کی مداخلت سے جوڑا گیا ہے، اور اسی تناظر کو بنیاد بنا کر کارروائی کو جواز دینے کی کوشش کی گئی۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی حملے کو شام کی جنگ اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے جوڑا گیا ہو۔

 

یاد رہے کہ دسمبر 2015 میں کرم کے مرکزی شہر  پارا چنار کے عیدگاہ میدان میں اتوار بازار کے دوران ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری سُنی عسکریت پسند گروپ لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔ 

 

خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بھیجے گئے تحریری پیغام میں اس وقت کے ترجمان علی بن سفیان نے دعویٰ کیا تھا: “یہ ہماری طرف سے ایران کی شام کی جنگ میں شمولیت کا انتقام ہے۔”

 

لشکر جھنگوی کے مطابق اس حملے کا مقصد پارا چنار کی شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانا تھا، کیونکہ ان کے بقول اس کمیونٹی کے افراد شام میں بشار الاسد کی حمایت میں داعش کے خلاف لڑ رہے تھے۔

 

پارا چنار کو قبائلی ضلع کرم میں شیعہ برادری کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

بعد ازاں 23 جون 2017 کو پارا چنار میں ماہِ رمضان کے جمعة الوداع کے روز دو بڑے بم دھماکے ہوئے، جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی لشکر جھنگوی نے قبول کرتے ہوئے اسے ایران اور بشار الاسد کی حمایت کا بدلہ قرار دیا تھا۔

 

لشکر جھنگوی نے اپنے پیغام میں شیعہ والدین کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے بچوں کو شام کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ روکا تو آئندہ بھی ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C