اسلام آباد خودکش حملہ: داعش نیٹ ورک کی بڑی گرفتاریاں، اہم انکشافات
👁️ 412 بار دیکھا گیا
اسلام آباد خودکش حملہ: داعش نیٹ ورک کی بڑی گرفتاریاں، اہم انکشافات
واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ پر جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد جاری تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر اور اس کا بہنوئی عثمان پشاور کے علاقے ترناب فارم سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ابتدائی گرفتاریوں اور تحقیقات کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مبینہ خودکش بمبار کے بھائی اور بہنوئی اس حملے سے آگاہ تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس پاکستان آیا۔ واپسی کے بعد وہ جون میں باجوڑ گیا جہاں اس نے سم کارڈ ایکٹیویٹ کیا۔ بعد ازاں یاسر 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا اور پھر نوشہرہ کینٹ کے علاقے حکیم آباد منتقل ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد میں واقع امام بارگاہ کی ریکی بھی کی تھی۔
پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یاسر کے گھر پر چھاپہ مارا اور دو بھائیوں اور والدہ سمیت چار افراد کو حراست میں لیا۔ اس کے علاوہ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کی والدہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 سے گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ روز اسلام آباد پہنچی تھیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور حملے سے قبل اپنی والدہ سے رابطے میں تھا اور اس نے حملے سے پہلے والدہ سے اجازت بھی مانگی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل آخری بار بھی ملزم نے موبائل فون کال پر والدہ سے بات کی تھی۔
جائے وقوعہ سے مبینہ حملہ آور کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا، جس کے مطابق اس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور درج ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق یاسر پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔
پشاور میں گرفتاری کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے نوشہرہ میں مبینہ خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے دوران ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین کو گرفتار کر لیا گیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں پولیس افسر اے ایس آئی اعجاز خان اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک فوجی افسر، پولیس کے اے ایس آئی شیر خان، کانسٹیبل حضرت علی سمیت مجموعی طور پر پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک اور زخمی اہلکاروں کو ملٹری اسپتال نوشہرہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد پورے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پشاور اور نوشہرہ سے گرفتار ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
حکام کے مطابق ان گرفتاریوں کے نتیجے میں مزید ملزمان کی نشاندہی کا امکان ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ کرنے والا حملہ آور پشاور کا ہی رہائشی تھا، جس کی تلاش کے لیے یہ کارروائی کی جا رہی تھی۔
پولیس اور سیکیورٹی ادارے یاسر کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور رابطوں کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
دوسری جانب عالمی شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور سیف اللہ انصاری تھا۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مبینہ حملہ آور کا اصل نام یاسر ہے، جبکہ سیف اللہ انصاری اس کا جہادی نام بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق پشاور سے تھا۔
اسلامک اسٹیٹ کے دعوے میں شامی تنازع اور زینبیون بریگیڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ حملہ مارچ 2022 میں پشاور کی کوچہ رسلدار شیعہ مسجد پر ہونے والے خودکش دھماکے کے مشابہ ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ حملہ آور مقامی تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے میں مجموعی طور پر 35 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 29 کی حالت نازک ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہیں۔
زینبیون بریگیڈ کا حوالہ
داعش کی جانب سے جاری کردہ حالیہ پریس ریلیز میں شامی تنازع اور زینبیون بریگیڈ کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کا تعلق شام میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عسکریت پسندوں کی مداخلت سے جوڑا گیا ہے، اور اسی تناظر کو بنیاد بنا کر کارروائی کو جواز دینے کی کوشش کی گئی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی حملے کو شام کی جنگ اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے جوڑا گیا ہو۔
یاد رہے کہ دسمبر 2015 میں کرم کے مرکزی شہر پارا چنار کے عیدگاہ میدان میں اتوار بازار کے دوران ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری سُنی عسکریت پسند گروپ لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔
خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بھیجے گئے تحریری پیغام میں اس وقت کے ترجمان علی بن سفیان نے دعویٰ کیا تھا: “یہ ہماری طرف سے ایران کی شام کی جنگ میں شمولیت کا انتقام ہے۔”
لشکر جھنگوی کے مطابق اس حملے کا مقصد پارا چنار کی شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانا تھا، کیونکہ ان کے بقول اس کمیونٹی کے افراد شام میں بشار الاسد کی حمایت میں داعش کے خلاف لڑ رہے تھے۔
پارا چنار کو قبائلی ضلع کرم میں شیعہ برادری کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بعد ازاں 23 جون 2017 کو پارا چنار میں ماہِ رمضان کے جمعة الوداع کے روز دو بڑے بم دھماکے ہوئے، جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی لشکر جھنگوی نے قبول کرتے ہوئے اسے ایران اور بشار الاسد کی حمایت کا بدلہ قرار دیا تھا۔
لشکر جھنگوی نے اپنے پیغام میں شیعہ والدین کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے بچوں کو شام کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ روکا تو آئندہ بھی ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 281 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
بنوں: دہشت گردوں نے گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی، پشاور میں دھماکا
03/June/2026 👁️ 274 بار دیکھا گیا
لبنان میں طویل المدتی اسرائیلی قبضہ ناقابلِ قبول ہے، فرانس
03/June/2026 👁️ 481 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C