08/February/2026

اسلام آباد شیعہ مسجد دھماکہ: ماں کی اجازت کے ساتھ خودکش حملہ، سنسنی خیز انکشافات

👁️ 319 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد شیعہ مسجد دھماکہ: ماں کی اجازت کے ساتھ خودکش حملہ، سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد شیعہ مسجد دھماکہ: ماں کی اجازت کے ساتھ خودکش حملہ، سنسنی خیز انکشافات

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران شیعہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے سلسلے میں تحقیقات میں اہم اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

 

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، 26 سالہ حملہ آور یاسر خودکش جیکٹ پہن کر نوشہرہ سے اسلام آباد پہنچا اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کی۔ وہ حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں کچھ دیر بیٹھا اور پھر پیدل کھنہ روڈ کے راستے امام بارگاہ پہنچا۔

 

حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے فائرنگ کی، اور ہال کے اندر جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں چار سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، اور بال بیرنگ کی مقدار غیر معمولی حد تک زیادہ تھی، جس کی وجہ سے جانی نقصان بڑھ گیا۔ 

 

ذرائع کے مطابق حملہ آور نے راستے میں دو گولیاں چلائیں اور اندر داخل ہو کر چھ بار فائر کیے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق، نوجوان عون عباس مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے جب فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ خطرے کے لمحے میں انہوں نے نماز توڑی اور خودکش حملہ آور، جو ہال کے دروازے سے داخل ہو رہا تھا، کو دبوچ لیا۔ حملہ آور نے اسی دوران دھماکے سے خود کو اڑا لیا۔ اگر وہ صفوں کے درمیان پہنچ جاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں عون عباس موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

 

واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے تمام گولیوں کے خول جمع کر لیے گئے اور فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر دیے گئے۔ تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے تاکہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے سے متعلق دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔ 

 

قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

 

تفتیشی ذرائع کے مطابق، خودکش حملہ آور کی والدہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 سے گرفتار کر لیا گیا، جو گزشتہ روز اسلام آباد پہنچی تھیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور حملے سے قبل والدہ سے مسلسل رابطے میں تھا اور دھماکے کی اجازت بھی والدہ سے لی گئی تھی۔ حملے سے پہلے آخری بار وہ موبائل فون کال کے ذریعے والدہ سے بات کر چکا تھا۔

 

پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر اور اس کا بہنوئی عثمان کو پشاور کے علاقے ترناب فارم سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 

 

ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا کہ مبینہ خودکش بمبار کے بھائی اور بہنوئی حملے سے آگاہ تھے۔ یاسر کے ایک اور بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق، یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس پاکستان آیا۔ پشاور میں گرفتاری کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے نوشہرہ میں مبینہ خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے دوران ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

چار گھنٹوں تک جاری فائرنگ کے تبادلے میں پولیس افسر اے ایس آئی اعجاز خان اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک فوجی افسر، پولیس کے اے ایس آئی شیر خان اور کانسٹیبل حضرت علی سمیت مجموعی طور پر پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 

کالعدم شدت پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ڈیلی اردو کے مطابق یہ دعویٰ گروپ کے ٹیلیگرام چینلز پر سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ حملے کے پیچھے داعش کا پاکستان میں فعال گروہ ہے اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے، جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C