07/February/2026

اسلام آباد میں شیعہ مسجد میں خودکش دھماکا، 35 افراد ہلاک، 169 زخمی

👁️ 418 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد میں شیعہ مسجد میں خودکش دھماکا، 35 افراد ہلاک، 169 زخمی

اسلام آباد میں شیعہ مسجد میں خودکش دھماکا، 35 افراد ہلاک، 169 زخمی

اسلام آباد (ڈیلی اردو/اے ایف پی/بی بی سی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت 

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے بعد شیعہ مسلمانوں کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 35 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوگئے ہیں 

 

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ خودکش حملہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں ہوا۔

 

یہ حملہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے دو روزہ سرکاری دورے کے موقع پر پیش آیا۔

 

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے پاکستانی میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے ترلائی کے امام بارگاہ میں ہوا۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور ابتدائی امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

 

سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ویڈیوز میں شدید زخمی افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

 

وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور سی ڈی اے اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پمز کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے پمز اور پولی کلینک منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

امام بارگاہ سے متصل گھر کے رہائشی اور خود کو امام بارگاہ کا منتظم بتانے والے سید اشفاق نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی سے گفتگو میں دھماکے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب فائر ہوا تو میں گھر سے بھاگا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بارگاہ میں کچھ ہوا ہے۔ امام بارگاہ کے باہر موجود گارڈز نے بتایا کہ تین حملہ آور تھے۔ گارڈز بھی زخمی ہیں، ایک کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔‘

 

سید اشفاق کا مزید کہنا تھا کہ ’دھماکے کے بعد ہر طرف زخمی موجود تھے، کسی کا بازو نہیں تھا تو کسی کی ٹانگ نہیں تھی۔ ہم نے شدید زخمیوں کو اپنی گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کیا، ایمبولینسیز ایک گھنٹے بعد پہنچیں۔‘

 

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ امام بارگاہ میں نماز ایک بجے شروع ہوئی تھی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’میں آخری صفوں میں کونے پر کھڑا تھا۔ میں بے ہوش ہو گیا تھا اور اب مجھے ہوش آیا۔‘

 

زاہد علی کو خوش قسمتی سے شدید چوٹیں نہیں آئی ہیں۔

 

زاہد علی کے ساتھ موجود ان کے ایک کزن جواد خان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں اکھٹے نماز پڑھنے گئے تھے جبکہ اُنھیں وضو کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔

’میں جب وضو کر کے آیا تو اس وقت نمازی سجدے میں چلے گئے تھے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ خود کش بمبار نے گیٹ پر موجود گارڈ پر فائرنگ کی اور وہ اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

 

جواد خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر مزید فائرنگ بھی ہوئی تھی۔

 

اس خودکش حملے کے ایک اور عینی شاہد حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے امام بارہ گاہ میں واقع مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ دو افراد جن کے پاس جدید اسلحہ موجود تھا، نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر سکیورٹی پر مامور افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔

 

انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور دو افراد گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر گئے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی۔

 

انھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور وہاں سے فرار ہو کر گلیوں میں چھپ گیا جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور نے فائرنگ جاری رکھی۔

 

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور تیسرا شخص بھی زخمی ہو کر نیچے گر گیا تاہم اس کے باوجود اس نے فائرنگ جاری رکھی۔

 

انھوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا جبکہ جو شخص نیچے گرا ہوا تھا اس کی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ گولیاں خودکش حملہ آور کو بھی لگیں جس کے بعد وہ نیچے گرا اور ایک زبردست دھماکہ ہوا۔

 

انھوں نے کہا کہ امام بارگاہ کے مرکزی دروازے کے اندر جا کر جس جگہ پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہاں پر کافی سارے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔

 

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ امام بارگاہ کے اندر واقع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر خودکش حملہ آور اس مسجد میں پہنچ جاتا تو اس سے بھی زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔

 

ایک اور عینی شاہد رضا جعفر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر بالخصوص نماز کے اوقات میں چھ افراد سکیورٹی کے لیے موجود ہوتے ہیں جن میں سے تین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر شخص کو امام بارگاہ میں داخل ہونے سے پہلے چیک کرتے ہیں جبکہ تین افراد کے پاس اسلحہ موجود ہوتا ہے۔

 

انھوں نے کہا کہ چند سال قبل بھی اس امام بارگاہ کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

 

حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ دھماکے کی آواز سن کر بہت سارے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں پر درجنوں لوگوں کی لاشیں اور ان کے اعضا پڑے ہوئے تھے جبکہ اس کے علاوہ گوشت کے لوتھڑے چھت اور دیواروں پر چپکے ہوئے تھے۔

 

انھوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔

 

امام بارگاہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ظہیر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہلی رکعت میں تھے کہ انھوں نے دو گولیوں کی آواز سنی۔

 

’اس کے بعد ہم لوگ رکوع میں گئے اور پھر سجدے میں گئے تو ایک دم دھماکہ ہو گیا۔‘

 

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہر طرف زخمی پڑے ہوئے تھے۔ میں اس وقت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں پر پولیس اور ریسکیو اہلکار پہنچ گئے جنھوں نے مجھے باہر نکالا اور ہسپتال پہنچایا۔‘

 

ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا کہ اس کی آواز کا اب تک مجھ پر اثر ہے۔

اس واقعہ کے عینی شاہدین کے بقول دو خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کے فراد ہونے کے باوجود جائے وقوعہ پر لوگ بے خوف و خطر کھڑے ہوئے تھے جبکہ پولیس کی جانب سے انھیں بارہا جگہ خالی کرنے کی درخواست کی جاتی رہی۔

 

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوسرے مبینہ خودکش حملہ آور کی تلاش کے لیے شہر کے محتلف علاقوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔

 

 

اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری داعش خراسان (ISKP) نے قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے خودکش حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی ہے۔

 

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچ گئے ہیں، جہاں اُنھوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔

 

اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

 

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فارنزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔

 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد خودکش حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

 

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

 

اپنے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

 

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

 

صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

 

یہ واقعہ 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کے جی-11 علاقے میں ضلعی و سیشن کورٹ کی عمارت کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے تقریباً تین ماہ بعد پیش آیا ہے، جس میں 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C