اسلام آباد ہائیکورٹ: جبری گمشدگیوں میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا تاثر ختم کریں، جسٹس اطہر من اللہ
👁️ 75 بار دیکھا گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ: جبری گمشدگیوں میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا تاثر ختم کریں، جسٹس اطہر من اللہ
اسلام آباد (ڈیلی اردو) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ جیسا کہ مسلح افواج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت کے ماتحت ہے تو یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ ریاستی اداروں کے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے کا تاثر ختم کرے۔
رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کی، جہاں انہوں نے وزارت داخلہ کے سیکریٹری سے یہ سوال کیا کہ وہ وضاحت پیش کریں کہ عوام کی آزادی کا تحفظ نہ کرنے پر عدالت موجودہ اور سابق حکومتی سربراہان اور وزرائے داخلہ کے خلاف سماعت کیوں نہ کرے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کو احکامات جاری کیے کہ یا تو وہ 5 لاپتا افراد کو پیش کرے یا پھر عدالت ذمہ داران اور سابق وزرائے داخلہ کو پیش ہونے کے احکامات جاری کرے گی کیونکہ جبری گمشدگیاں آئین کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے سیکریٹری داخلہ سے سوال کیا کہ کیا سابق اور ذمہ داران صدر اور گورنرز نے جبری گمشدگیوں سے متعلق سالانہ رپورٹ طلب کی تھیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک سابق حکومتی سربراہ کی کتاب ’اِن لائن آف فائر‘ کا حوالہ دیا کہ کتاب میں سابق حکومتی سربراہ نے ’جبری گمشدگیوں‘ کو ریاستی حکمت عملی قرار دیا تھا تو اب حکومت کو اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 17 جون تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کرائی گئی جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2011 سے لے کر اب تک 8 ہزار 463 لاپتا افراد میں سے صرف 3 ہزار 284 افراد اپنے گھر واپس آئے ہیں۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 228 افراد مقابلوں میں مارے گئے ہیں اور متعلقہ پولیس نے مقابلوں کی ایف آئی آر ریاست کی بنا پر درج کرکے قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ 946 افراد کو ایکشن (ان ایڈ آف سول پاورز) ریگولیشنز 2011 کے تحت حراستی مراکز میں قید ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی اور متعلقہ ’اداروں‘ کی جانب سے اہل خانہ کے ساتھ قیدیوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 584 لوگوں سے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ انہیں مجرمانہ اور دہشت گردی کے الزامات میں زیر سماعت قیدیوں کے طور پر جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔
جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ مکمل تفتیش کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک ہزار 178 کیسز جبری گمشدگیوں کے طور ثابت نہیں ہوئے کیونکہ ان کیسز میں لاپتا افراد یا تو خود گئے ہیں یا یہ کیسز اغوا برائے تاوان یا ذاتی دشمنی سے متعلق ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 168 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8827 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4550 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3267 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2448 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2086 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1895 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C