10/June/2026

افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں 11 بچوں سمیت 13 شہری ہلاک، طالبان حکومت

👁️ 184 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں 11 بچوں سمیت 13 شہری ہلاک، طالبان حکومت

افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں 11 بچوں سمیت 13 شہری ہلاک، طالبان حکومت

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ پاکستان نے ملک کے مختلف علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 13 شہری ہلاک جبکہ 14 دیگر زخمی ہو گئے۔ 

 

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ تازہ ترین فضائی  حملوں میں افغان صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 بچے، ایک عورت اور ایک عمر رسیدہ شخص ہلاک ہوئے۔ 

 

افغان حکام کے مطابق پاکستان کی طرف سے کیے گئے حملوں سے شہری آبادی شدید  متاثر ہوئی ہے، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

 

اگرچہ حملوں کے چند گھنٹوں بعد سرحد کے ساتھ حالات پرسکون تھے، لیکن کابل اس سے قبل سرحد کے ساتھ پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنا کر پاکستانی حملوں کا جواب دے چکا ہے۔ 

 

پاکستان کی وزارت خارجہ یا فوج کی طرف سے افغانستان کے اندر ہونے والے حملوں  یا ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

 

 

یہ حملے اس واقع کے ایک روز بعد کیے گئے جس میں مبینہ پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں نے  افغانستان سے متصل شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے حسن خیل میں ایک سکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا۔ 

 

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں فیڈرل کانسٹیبلری کے چھ اہلکار ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ 

مقامی حکام نے منگل کے روز بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے آٹھ کو ہلاک کر کے چوکی پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ 

 

وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد ازاں پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

 

محسن نقوی نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ 

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان عسکریت پسندی کے خلاف اپنی جنگ میں متحد ہے اور امن و سلامتی کو خطرہ بننے والے گروپوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔

 

یاد رہے کہ پاکستان نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ  کی حالت میں ہے، کیونکہ ملک کے اندر شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔

 

افغانستان کا کہنا ہے کہ مارچ میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں میں کابل میں واقع ایک منشیات کے علاج کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک اسلحہ گودام پر حملہ کیا تھا۔

 

جب چند ماہ قبل چین نے شمالی چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان  امن مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جس کے بعد بیجنگ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے کشیدگی نہ بڑھانے اور مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ اور کچھ دیگر دوست ممالک اب بھی دونوں فریقین کو پائیدار امن کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C