10/February/2026

افغان جنگیں جہاد نہیں تھیں، ہم دو دہائیوں تک کرائے پر دستیاب رہے، پاکستانی وزیر دفاع

👁️ 162 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان جنگیں جہاد نہیں تھیں، ہم دو دہائیوں تک کرائے پر دستیاب رہے، پاکستانی وزیر دفاع

افغان جنگیں جہاد نہیں تھیں، ہم دو دہائیوں تک کرائے پر دستیاب رہے، پاکستانی وزیر دفاع

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں لڑی گئی جنگوں پر چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان افغانستان میں دو ایسی جنگوں کا فریق بنا جو کسی صورت جہاد نہیں تھیں بلکہ یہ جنگیں ڈکٹیٹروں کے مفادات کے تحت لڑی گئیں۔

 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم اسلام کی محبت میں نہیں بلکہ آمرانہ حکومتوں کے فیصلوں کے تحت ان جنگوں میں شریک ہوئے۔ یہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی جس میں پاکستان کو استعمال کرنے کے بعد تنہا چھوڑ دیا گیا۔

 

وزیرِ دفاع نے انکشاف کیا کہ افغانستان کی حکومت نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو دور منتقل کرنے کے بدلے پاکستان سے دس ارب روپے کا مطالبہ کیا، اس کے باوجود افغان حکومت کسی قسم کی گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھی۔ ان کے مطابق جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا جائے گا، آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں صبر و تحمل کو فروغ دینا ہوگا، اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم دہشت گردی کی مذمت پر بھی یکجا نہیں ہو پاتے۔

 

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان میں لڑی گئی جنگوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، روس کے خلاف جنگ کو بھی جہاد قرار دینا ایک تاریخی غلطی تھی۔ ہم دو دہائیوں تک کرائے پر دستیاب رہے اور آج بھی اس حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری شناخت سرحدوں کے پار نہیں، ہمیں اپنی پہچان کے لیے کہیں اور دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صبح اٹھیں اور کھانے کے لیے سرحد پار کر کے پشاور آ جائیں۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو سب سے آخر میں افغانستان نے تسلیم کیا، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک ویزا سسٹم موجود نہیں تھا اور وہ خود بھی بغیر ویزا افغانستان جا چکے ہیں۔

 

وزیر دفاع نے امریکہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔ نائن الیون کے واقعے پر آج تک حقائق سامنے نہیں آ سکے، جبکہ ٹوئن ٹاور حملوں میں کسی افغان پشتون یا ہزارہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار سے پانچ امریکی صدور کے فیصلوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں 10 سے 12 کروڑ مسلمان مارے گئے، حتیٰ کہ معمر قذافی کے بیٹے کو بھی نہیں بخشا گیا۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم آج تک اپنا اصل نصاب بحال نہیں کر سکے، اپنی پوری تاریخ بدل دی گئی، اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حملہ آوروں کے بجائے اپنے لوگوں کو ہیروز ماننا ہوگا۔

 

وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کے دورِ حکومت میں اپنی شمولیت پر معذرت کی، مگر ان کے علاوہ کسی نے اپنے کردار پر معافی نہیں مانگی۔

خطاب کے اختتام پر خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کو جس طرح شکست دی گئی ہے، اس کے بعد نریندر مودی دنیا بھر میں اور اپنے ملک میں سبکی کا شکار ہو چکا ہے اور دوبارہ کسی جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

 

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ مسالک کا ذکر ایک تقریر میں کرنے پر انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں اور ان کا فون دھمکی آمیز کالز سے بھرا ہوا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C