افغان طالبان کی امریکا کو عارضی جنگ بندی کی پیش کش
👁️ 71 بار دیکھا گیا
افغان طالبان کی امریکا کو عارضی جنگ بندی کی پیش کش
کابل + اسلام آباد (ڈیلی اردو/وائس آف ایشیا) امریکا نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے عارضی جنگ بندی کا دعوی کیا ہے جوکہ 10دن کی ہوگی تاہم فریقین کی مشاورت سے اس کی مدت میں اضافہ کیا جاسکے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے نے طالبان عہدے دار کے حوالے سے نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد سے مذکرات یں افغان طالبان قیادت سات سے 10 روز کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہو گئی ہے۔
طالبان کے اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جنگ بندی کے باعث دوبارہ لڑائی کے لیے تیار ہونا مشکل ہو گا۔
انہوں نے کہاکہ بعض جنگجوؤں کی یہ رائے تھی کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد اسی جوش و جذبے سے میدان جنگ میں جانا آسان نہیں ہو گا ان جنگجوؤں کا استدلال ہے کہ طالبان کی کارروائیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے امریکہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہوا ہے۔
اس ضمن میں طالبان نے قطر میں ایک دستاویز زلمے خلیل زاد کے حوالے کی ہے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے ماہرین طالبان کی جانب سے لچک دکھانے کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے طالبان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات گزشتہ سال فروری میں دوحہ میں شروع ہوئے تھے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے لیے سرگرداں ہیں۔
مذاکرات کے متعدد ادوار کے بعد گزشتہ سال ستمبر میں فریقین حتمی سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کا عذر پیش کرتے ہوئے مذاکرات معطل کر دیے تھے۔
اس سے قبل زلمے خلیل زاد ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ امن معاہدے میں افغان فریقین کے درمیان سمجھوتہ بھی شامل ہو گا ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے میں انسانی حقوق کی پاسداری، اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کے حقوق کی بھی ضمانت شامل ہو گی۔
علاوہ ازیں مستقل جنگ بندی، طالبان جنگجوؤں اور کابل حکومت نواز عسکری گروہوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کیا جائے گا لیکن طالبان کابل حکومت سے مذاکرات سے گریزاں رہے ہیں جسے وہ امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں مستقبل جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ یہاں سے اپنی فوج نکالے لیکن امریکی حکام کا یہ اصرار رہا ہے کہ طالبان کو افغانستان میں اپنی کارروائیاں ترک کرنا ہوں گی۔
طالبان آدھے سے زیادہ افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں طالبان جنگجو وقتاً فوقتاً امریکہ اور افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چاغی : نجی کانوں سے اغوا کیے گئے تمام 7 افراد بحفاظت بازیاب
06/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
شام :وزارت دفاع سے منسوب بھرتی فارم پر مذہبی سوالات، سوشل میڈیا پر شدید بحث
06/September/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں امن و استحکام معاشی ترقی کی بنیاد ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
06/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک
06/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
کوئٹہ : شالکوٹ تھانے پر دستی بم حملہ، پولیس اہلکار اور راہگیر زخمی
06/September/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
شام : سابق فوجی افسر جلال کامل صقر گرفتار، جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام
06/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9101 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7391 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5086 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C