الجواب بے توفیق اور زرد صحافت! (شیخ نعیم کمال)
👁️ 123 بار دیکھا گیا
الجواب بے توفیق اور زرد صحافت! (شیخ نعیم کمال)
قارئین گرامی قدر راقم پی آئی سی واقع کی بابت 2 کالم پہلے تحریر کر چکا ہے اور اس واقع میں اصل کرداروں، چاہے وہ وکلاء ہوں میڈیا ہو یا حکومت کو ننگا کرنے کی جسارت کی اور التماس کیا کہ متعلقہ مقتدر ادارے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کریں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کریں۔ راقم نے پہلے بھی واقع مذکور کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اب بھی یہی کہوں گا ایسے واقعات قوموں کے اخلاقی دیوالیہ ہونے اور زوال کی نشانی ہوا کرتے ہیں۔
راقم نے بالخصوص ایسے موقع پر انتہائی حکمت سے کام لینے کی درخواست کی اور حکومت کی واضح غفلت اور میڈیا کے یکطرفہ کردار کو زیر تنقید لایا کہ جب واقعہ کے ذمہدارن میں سب سے زیادہ حکومتی غفلت اور بے حکمتی شامل ہے تو میڈیا محض وکلاء کو ہی اپنے نشانے پر کرھ کر کونسی دانشوری آزما رہا ہے؟ کہ دو معزز پیشے اور ادارے آپس میں حالت جنگ میں ہی رہیں؟
چند روز قبل ایک نام نہاد زرد صحافت کے علمبردار دانشور بنام توفیق بٹ صاحب نے ایک غیر منطقی اور جلتی پر آگ کا کام کرنے والا بے توفیق کالم تحریر فرمایا جس میں آڑے ہاتھوں پھر وکلاء کو ہی انتہائی بد تہذیب انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ تحریر ہذا کا مقصد کالم مذکور کا آپریشن کر کے نفی کرنا مقصود ہے۔
موصوف کتنی ڈٹھائی سے معزز ہائی کورٹ پر اپنی تنقید کا ترکش دان سیدھا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ججز وکلاء سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ انکو پی آئی سی جا کر ڈاکٹروں کو پھول پیش کرنے کا حکم دیا تا کہ معاملہ صلح صفائی کی طرف بڑھے۔ اور موصوف معترض ہوتے ہیں کہ وہ جن کے پیارے اس حملہ میں جاں بحق ہوئے انکے ساتھ کیا یہی انصاف ہے؟
محترم بے توفیق صاحب اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کیجیے اگر ہیں تو اپنی قلم کو انصاف پر چلائیں! وکلاء نے پی آئی سی کے باہر قریباً 2 گھنٹے پر امن احتجاج کیا جو کہ لاہور رنگ ٹی۔وی کے اینکر ولی خان نے اپنے دی نیوز نائٹ پروگرام میں ریکارڈ کیا۔ بعد میں جب پہلے سے طے شدہ پلید سکیم امپلمنٹ ہوتے نظر نہ آئی تو وکلاء پر پی آئی سی کی چھت سے کانچ کی بوتلیں اور پتھر برسائے گئے۔ تو موجودہ انویسٹیگیشن جو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو چکی کے مطابق کچھ لوگ وکلاء کی وردی میں ملبوس تھے بعد از تحقیق علم ہوا کہ وہ وکیل نہیں تھے۔ لیسکو کے حاضر سروس ملازمین 4 کس اور 8 کس کالے کوٹ میں ملبوس جو کسی بھی محکمہ سے تعلق نہ رکھتےتھے مگر وکیل بھی نہ تھی۔ جو جناب بے توفیق کے کسی آقا و مولا کی ہدایت پر ہی وہاں بلوا کرنے تشریف لائے ہوئے تھے یعنی ایسی کالی بھیڑوں نے موقع ملتے ہی دھاوا بول دیا، جن کی شہہ پر یقیناً وکلاء بھی پی آئی سی کے کوریڈور میں داخل ہو گئے میں توڑ پھوڑ کرنے والے وکلاء کی حوصلہ شکنی کرونگا۔ کبھی بھی اس فعل کو حق بجانب نہیں گردانتا وہ لوگ قابل گرفت ہیں مگر جناب کے اپنے الفاظ کے مطابق جب حالات ایسے بنا دئیے جائیں تو سانحے ہو جایا کرتے ہیں۔ مگر پولیس کو جو انکے آقا و مولا نے ہدایات دے رکھی تھیں کے مطابق انہوں نے پی آئی سی کے کوریڈور میں آنسو گیس پھینکنا شروع کر دی۔
یہاں بے توفیق کو اگر توفیق میسر آجائے تو کسی کالم میں یہ بھی پوچھنا کہ اس آنسو گیس جو کوریڈور کے اندر پھینکی گئی سے کتنے مریضوں کو گزند پہنچی اس بابت لاہور ہائی کورٹ استفسار کر چکی ہے مگر جناب کے قلم سے بھی پوچھا جانا ضروری ہے کیونکہ جناب کو انصاف بہت پسند ہے۔
جناب بے تو فیق صاحب پھر وکلاء کوریڈور سے ہی باہر کی جانب دھکیل دئیے گئے۔
گزشتہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب نے اپنی اپنی رپورٹس عزت مآب ہائی کورٹ میں جمع کروائی ہیں جنکے مطابق کسی ایک وکیل کا ایمرجنسی وارڈ یا آئی سی یو میں داخلے کا ثبوت بشکل سی سی ٹی وی وڈیو نہیں ملا۔ البتہ بمطابق آئی جی رپورٹ ایک مریض آکسیجن ماسک اتارنے پر جاں بحق ہوا جسکی بابت ڈاکٹرز عدم تعاون کرتے ہوئے وڈیو مہیا نہیں کر رہے۔ واقعہ میں کوئی ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل سٹاف زخمی نہیں ہوا البتہ 25 وکلاء شدید زخمی ہیں۔ واہ کیسے دہشت گرد ہیں جو حملہ بھی کریں اور کثیر تعداد میں خود زخمی ہوں مگر ٹارگٹڈ ڈاکٹر کو خراش بھی نہ آئے۔
میں الجواب ہذا کے توسط سے یہی لکھوں گا کہ جس شخص چاہے وہ وکیل ہو، ڈاکٹر ہو یا کوئی دیگر ادارے کا ملازم کی وجہ سے کوئی بھی موت واقع ہوئی ہو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے پکڑا جائے۔
جناب بے توفیق صاحب اب فرمائیں ایسے حالات میں جب اداروں کا ٹکراؤ کروانے میں میڈیا اور زرد صحافت اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے وہاں ایک جج کا معاملے کو صلح جوئی کی طرف لیجانا کوئی برا اقدام ہے؟ اور ساتھ ساتھ تحقیقات بھی ہوں اور ذمہ داران کو سزا بھی ملے چاہے جو کوئی بھی ہو۔
یہ کونسی دانشوری ہے جسے آپ آزما رہے ہیں؟ اور جلتی پر تیل ڈال کر وکلاء کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے آگئے ہیں؟ جج کے حکم پر تو آپکو شدید اعتراض ہے مگر ڈسکہ کے انسپکٹر کو جناب نے اپنی بے توفیقی کے تحت بے قصور اور بہادر بتاتے ہوئے مظلوم ثابت کیا کہ اسکا وکلاء کو قتل کرنا درست تھا کیونکہ حالات ایسے بنا دئیے گئے تھے۔ مگر آپکو اس ڈیڑھ فٹے ڈاکٹر کی پر اشرار وڈیو۔ وکیل پر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی جانب سے بہیمانہ تشدد اور حکومت کی بے حکمتی، غفلت اور غیر ذمہ داری کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا ان تمام عوامل نے مذکورہ مبینہ سانحے کے حالات و واقعات ویسے ہی نہیں بنا دئیے تھے؟ اوہو جی جی حق بات لکھتے ہوئے آپ کو توفیق میسر نہیں آئے گی اور فن صحافت بھوک جائے گا۔ کیونکہ یا تو آپکو محض وکلاء سے اللّٰہ واسطے کا بیر ہے یا محض وکلاء کو نشانے پر رکھنے کیلئے ڈاکٹروں کی آقا و مولا دوائیاں بنانے والی کسی ملٹی نیشنل کمپنی نے لفافا عطا فرمایا ہوگا۔
ایک طرف آپ اپنے کالم میں جج صاحب کے صلح جو حکم کو نا انصافی کہتے ہیں دوسری طرف آپ خود منصف اور ماورائے عدالت اپنا ذاتی فیصلہ بر حق وکیلوں کے قاتل انسپکٹر سنائے جاتے ہیں۔ آپ ہیں کون ایسے اپنی طرف سے ماورائے عدالت فیصلے سنانے کا اختیار آپکو کس نے دیا ہے۔ آپکی جو ریسڈیکشن تنقید، تنقیص و تحریر تو ہو سکتی ہے مگر عدالتوں کو ڈائریکشن دینے والے آپ ہوتے کون ہیں؟
آپ صحافی ہیں یا کچھ اور؟ جناب بے توفیق صاحب قلم میں بڑی طاقت ہوتی ہے اسی سے تاریخ مسخ کر دی جاتی ہے اسی سے تاریخ زندہ کر دی جاتی ہے۔ مگر دوام اسی قلم و تحریر کو ہے جو حق و سچ تعصبات سے بالا تر ہو کر لکھے۔ الجواب صرف اتنا ہی کہ جناب کے کالم مذکور کا مطالعہ کرنے سے محض تعصب و انتشار کی بو آ رہی ہے۔ خوشبو پیدا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ مالک الملک کے پاس پہنچ کر جوابدہ بھی ہونا ہے۔ یاد رہے وہاں غلط بیانی کی توفیق بالکل نہیں ہو گی۔
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 112 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 147 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8824 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4548 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3264 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2447 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2086 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1894 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C