02/November/2025

’الفاشر کا قصائی‘ ابو لولو گرفتار: سوڈان میں 2 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا اعتراف

👁️ 295 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
’الفاشر کا قصائی‘ ابو لولو گرفتار: سوڈان میں 2 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا اعتراف

’الفاشر کا قصائی‘ ابو لولو گرفتار: سوڈان میں 2 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا اعتراف

خرطوم (ڈیلی اردو/بی بی سی/اے ایف پی) سوڈان میں نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں الفاتح عبداللہ ادریس نامی شخص کی گرفتاری دکھائی گئی ہے، جنہیں ’الفاشر کا قصائی‘ اور ’ابو لولو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

 

یہ گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی ہے جب آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دگالو نے الفاشر میں ہونے والے تشدد کا اعتراف کرتے ہوئے تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔

 

اقوام متحدہ کے مطابق آر ایس ایف نے بتایا ہے کہ اس نے الفاشر میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے حالیہ بیان میں تصدیق کی کہ الفاشر میں آر ایس ایف فورسز کے ہاتھوں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔

 

دو سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے مابین شدید جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اتوار کے روز آر ایس ایف نے کئی ماہ کے محاصرے کے بعد الفاشر شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

 

’الفاشر کا قصائی‘ کون ہے؟

 

نام نہاد ابو لولو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک پر وائرل اُن ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئے جن میں وہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

 

ویڈیوز میں متاثرین جان بخشی کی فریاد کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ابو لولو اُن پر ہنستے ہوئے قتل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 

پیر کو سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ابو لولو نے دو ہزار سے زائد افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ ایک اور ویڈیو میں اُس نے کہا: "ہمارا کام صرف مارنا ہے۔‘‘بی بی سی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیے سے یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ ابو لولو کو شالہ جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو الفاشر کے مغرب میں واقع ہے اور سخت حالات کے لیے مشہور ہے۔

 

آر ایس ایف کے ایک اہلکار نے ویڈیو میں بتایا: ’’ابو لولو گرفتار ہو چکا ہے، اور اس کا منصفانہ ٹرائل قانون کے مطابق کیا جائے گا۔‘‘

 

ابو لولو کے پس منظر پر سوالات

 

سوڈانی میڈیا کے مطابق، ابو لولو کا اصل نام الفاتح عبداللہ ادریس ہے اور وہ آر ایس ایف میں بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز تھے۔

 

رپورٹس کے مطابق وہ ماضی میں خرطوم سے 70 کلومیٹر دور لجیلی ریفائنری میں تعینات رہے، بعدازاں کوردوفان اور پھر الفاشر منتقل کیے گئے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابو لولو کی ویڈیوز میں اُن کی ملٹری وردی اور آر ایس ایف کمانڈروں کے ساتھ موجودگی، اُن کے براہِ راست تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم آر ایس ایف نے اس تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔

 

کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف ابو لولو کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے تاکہ مغربی ممالک کو دکھایا جا سکے کہ تشدد کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے، جبکہ اصل میں ہزاروں افراد کے قتلِ عام پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔

 

 الفاشر سے 60 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

 

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، الفاشر سے 60 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ادارے کے نمائندے یوجن بیون نے بتایا کہ بیشتر افراد تاویلہ نامی علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جو الفاشر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع ہے۔

 

انسانی حقوق گروہوں نے اطلاع دی ہے کہ شہر میں اجتماعی سزائے موت، خواتین سے بدسلوکی اور انسانیت کے خلاف جرائم کیے گئے۔

 

یو این ایچ سی آر کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور ’’ہر بچہ غذائی قلت کا شکار‘‘ ہے۔

 

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق، سوڈان کی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

 

فی الحال آر ایس ایف مغربی سوڈان اور کوردوفان کے بڑے حصوں پر قابض ہے، جبکہ سوڈانی فوج دارالحکومت خرطوم اور وسطی و مشرقی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C