21/September/2026

امریکا کا ایرانی فضائی شعبے کے خلاف بڑا اقدام، 27 ایئر لائنز پابندیوں کی زد میں

👁️ 89 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا کا ایرانی فضائی شعبے کے خلاف بڑا اقدام، 27 ایئر لائنز پابندیوں کی زد میں

امریکا کا ایرانی فضائی شعبے کے خلاف بڑا اقدام، 27 ایئر لائنز پابندیوں کی زد میں

واشگنٹن(ڈیلی اردو) امریکا نے ایران کے فضائی شعبے پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے 27 ایرانی ایئر لائنز سمیت مجموعی طور پر 36 اداروں اور متعلقہ اہداف کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے مبینہ طور پر ہتھیاروں، اہلکاروں اور دیگر سامان کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے فضائی نیٹ ورک کو محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اس مہم کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف معاشی دباؤ جاری رکھے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں میں ایران کی باقی ماندہ 27 ایئر لائنز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ ایران کے فضائی شعبے سے متعلق بیرونِ ملک موجود بعض اداروں اور معاون نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی حکام کا الزام ہے کہ ایران کی بعض تجارتی فضائی کمپنیوں کو ہتھیاروں، اہلکاروں اور دیگر سامان کی منتقلی سمیت ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنہیں واشنگٹن ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب سے منسلک قرار دیتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے خاص طور پر بعض ایرانی ایئر لائنز کے حوالے سے عسکری اور لاجسٹک سرگرمیوں میں مبینہ کردار کا ذکر کیا ہے۔

نئی پابندیوں کے تحت ایران ایئر ٹور، ایران ایئر، قشم ایئر، کیش ایئر، ایران آسمان ایئر لائنز، زاگرس ایئر لائنز، سیپہران ایئر لائنز اور دیگر ایرانی فضائی کمپنیوں سمیت 27 ایئر لائنز کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ امریکا نے ایران کے فضائی شعبے سے متعلق متعدد غیر ایرانی اداروں اور ثالثی نیٹ ورکس کو بھی اپنی کارروائی میں شامل کیا ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد ایران سے منسلک مالی، تجارتی اور لاجسٹک نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس مہم کے تحت ایران کو درکار مالی وسائل اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی اقدامات کے بعد ایرانی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر بھی اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بعض ایرانی ایئر لائنز نے بیرونِ ملک پروازوں میں کمی یا معطلی کی ہے، جبکہ ترکی اور جارجیا سمیت بعض ممالک میں ایرانی فضائی کمپنیوں کی پروازوں سے متعلق پابندیوں یا آپریشنل تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی پابندیوں کے معاملے پر ایران کا مؤقف مختلف ہے۔ ایرانی حکام نے اس سے قبل کہا ہے کہ نئی پابندیاں ملک کے فضائی شعبے کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کرسکتیں۔ ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں کے اعلان کے بعد تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

یہ تازہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور واشنگٹن تہران پر مالی، تجارتی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سکاٹ بیسنٹ اس سے قبل بھی ایران سے متعلق امریکی پابندیوں اور ان پر عمل درآمد کے لیے مختلف ممالک سے بات چیت کا ذکر کر چکے ہیں۔

چین بھی اس معاملے میں اہم فریق بن سکتا ہے، کیونکہ امریکی حکام ایران سے متعلق پابندیوں کے نفاذ اور مالی و تجارتی روابط کے حوالے سے بیجنگ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے ایران سے متعلق پابندیوں پر چینی حکام کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیا ہے۔

تازہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران کے فضائی شعبے کو بین الاقوامی سطح پر مزید پابندیوں اور آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے، تاہم مختلف ممالک کی جانب سے ان پابندیوں پر عمل درآمد اور ایرانی ایئر لائنز کی پروازوں پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہیں۔ اس لیے ’’دنیا بھر کی فضائیں مکمل طور پر بند‘‘ ہونے کے بجائے اسے ایرانی ایئر لائنز کے خلاف وسیع امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی سطح پر ان کے ممکنہ اثرات کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C