11/March/2026

امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا

👁️ 179 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا

امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی) امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل 10 مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پیر کی رات افغانستان کو 'غلط حراست‘ یا wrongful detention کا تعاون کنندہ ملک قرار دے دیا جبکہ اس سے مختلف ایک علیحدہ پیش رفت میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ یا hostage diplomacy پر عمل پیرا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے غلط یا بے جا طور پر حراست میں لینے کے عمل کے حوالے سے افغانستان کی اب جو باقاعدہ درجہ بندی کر دی ہے، اس میں ایران پہلے ہی سے شامل ہے۔ 

 

واشنگٹن حکومت کی طرف سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلے ایران اور اب افغانستان کو ایسے ممالک قرار دیا جا چکا ہے، جو اس لیے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتے ہیں کہ بعد میں امریکی پالیسیوں کے لحاظ سے اپنے لیے چھوٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکیں۔

 

جہاں تک امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے افغانستان سے پہلے ایران کو 'غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دیے جانے کا تعلق ہے، تو واشنگٹن حکومت نے یہ فیصلہ 27 فروری کو کیا تھا، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے جانے والے ان فضائی حملوں سے صرف ایک روز قبل، جو مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین جنگ کی وجہ بنے، جو ابھی تک جاری ہے۔

 

پا کستان کی کابل پر بمباری: ’ہمیں لگا زلزلہ آگیا ہے‘

نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران اور افغانستان کی ایسے ممالک کے طور پر درجہ بندی کا مقصد تہران اور کابل پر اس مقصد کے تحت دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند کریں یا پھر تادیبی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔

 

اس حوالے سے پیر ہی کی شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں افغانستان کے بارے میں کہا، ''(کابل میں) طالبان ابھی تک امریکی پالیسیوں میں اپنے لیے رعایتیں حاصل کرنے یا تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرنے جیسے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قابل مذمت ہتھکنڈے لازمی طور پر ختم ہونا چاہییں۔‘‘

 

ساتھ ہی مارکو روبیو نے کہا، ''امریکی شہریوں کے لیے افغانستان کا سفر محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے کہ طالبان ابھی تک امریکہ اور دیگر ممالک کے شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

 

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کابل میں طالبان انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ فوری طور پر ان امریکی شہریوں کو رہا کریں، جن کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔

 

ان میں ڈینس کوائل نامی وہ امریکی تعلیمی محقق بھی شامل ہیں، جو جنوری 2025ء سے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ ان کے علاوہ افغانی نژاد امریکی بزنس مین محمود حبیبی ایک ایسے کنٹریکٹر ہیں، جو کابل میں ایک ٹیلیکوم کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور 2022ء میں اچانک لاپتا ہو گئے تھے۔ حبیبی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔

 

نیو یارک سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل پیر کی شام اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ مائیک والٹز نے اس کے لیے انگریزی میں 'ہوسٹیج ڈپلومیسی‘ کے الفاظ استعمال کیے۔

 

ساتھ ہی اس امریکی سفیر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان خواتین کے بنیادی حقوق کی بھی عملاﹰ نفی کر رہے ہیں، تو پھر اسی ملک کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے ایک بلین ڈالر مہیا کیے جانے کی کوششوں کا کیا مطلب ہے؟

 

مائیک والٹز کے الفاظ میں، ''ہم کسی ایسے گروپ کے ساتھ کوئی اعتماد سازی بھلا کیسے کر سکتے ہیں، جو بے گناہ امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتا ہے اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات تک کو مسلسل نظر انداز کرتا آ رہا ہے۔‘‘

 

افغاستان سے متعلق امریکی حکومت کے اس تازہ ترین اقدام کے ردعمل میں کابل میں طالبان کی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ہندوکش کی اس ریاست کی ’’غلط حراست کے معاون ملک‘‘ کے طور پر درجہ بندی ’’افسوسناک‘‘ ہے۔

 

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن نے افغانسدتان میں زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا جو مطالبہ کیا ہے، کابل حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش مند ہے۔   

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C