11/July/2026

امریکہ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک ایرانی فنانسر پر پابندیاں عائد کر دیں

👁️ 173 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک ایرانی فنانسر پر پابندیاں عائد کر دیں

امریکہ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک ایرانی فنانسر پر پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکہ نے جمعہ کو ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک اہم ایرانی مالی معاون اور 13 دیگر افراد و اداروں کو نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سے مبینہ طور پر منسلک ہیں۔

 

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں دبئی میں مقیم ایرانی بینکر اور کاروباری شخصیت علی انصاری بھی شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور دیگر اداروں سے منسلک سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔

 

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ علی انصاری نے عوامی فنڈز سے حاصل دولت کو بیرون ملک رئیل اسٹیٹ اور تجارتی اثاثوں کے وسیع نیٹ ورک میں منتقل کیا، جس سے مبینہ طور پر انہیں، ایرانی حکومتی اشرافیہ اور پاسدارانِ انقلاب کو فائدہ پہنچا۔

 

امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے ایران میں قائم تین کرنسی ایکسچینج اداروں اور بیرون ملک فرنٹ کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ادارے پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کی جانب سے اربوں ڈالر سالانہ کی مالی منتقلی کے لیے شیل کمپنیوں کے نیٹ ورک استعمال کرتے تھے۔

 

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے حکمران طبقے کو مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے تاکہ تہران کی غیر ملکی کرنسی تک رسائی اور عالمی مالیاتی نظام کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔

 

یہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی ٹینکروں کو مبینہ طور پر ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد امریکہ نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ختم ہو چکا ہے، تاہم واشنگٹن تہران کی درخواست پر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔

 

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ محکمہ خزانہ مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔

 

ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ’’مکمل دفاع‘‘ کے لیے تیار ہے۔ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ٹیلی گرام پر کہا کہ جنگ تہران کے ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگی۔

 

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق علی انصاری اس سے قبل ایرانی بینک آیندہ بینک کے مالک اور ڈائریکٹر رہ چکے ہیں، جسے امریکی پابندیوں کا سامنا تھا اور ایرانی حکام نے اکتوبر 2025 میں اسے بند کر دیا تھا۔

 

امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ انصاری نے مختلف ممالک میں شیل کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے سینٹ کٹس اینڈ نیوس میں قائم اسمارٹ گلوبل لمیٹڈ نامی ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے یورپ، خلیجی خطے اور دیگر مقامات پر کروڑوں ڈالر کے اثاثے قائم کیے۔

 

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ متعدد اثاثے علی انصاری کے نام پر تھے، تاہم ان سے بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای، ان کے خاندان، ایرانی اشرافیہ اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچتا تھا۔

 

OFAC نے ایرانی ایکسچینج اداروں سے منسلک ایرانی شہریوں، ہانگ کانگ کی کمپنی سی ڈی ایم ٹریڈنگ لمیٹڈ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی نبا الزکی را میٹریلز ٹریڈنگ ایل ایل سی پر بھی پابندیاں عائد کیں، جن پر ان مالیاتی نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C