11/July/2026

بلوچستان: مجید بریگیڈ کا خضدار میں شفیق مینگل کے گھر پر خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک

👁️ 173 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: مجید بریگیڈ کا خضدار میں شفیق مینگل کے گھر پر خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک

بلوچستان: مجید بریگیڈ کا خضدار میں شفیق مینگل کے گھر پر خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک

خضدار (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ نے قبول کی ہے۔

 

میر شفیق الرحمان مینگل اس حملے میں محفوظ رہے۔ ان کے مطابق حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے مرکزی دروازہ تباہ کر کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کے محافظوں نے جوابی کارروائی کی جس کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔

 

میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا کہ حملہ بدھ کی دوپہر تقریباً ڈھائی بجے کیا گیا۔ ان کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ان کے 17 ساتھی ہلاک ہوئے، جن میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ 

 

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ محافظوں کی جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے یا زخمی ہوئے، تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

 

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

 

کالعدم بی ایل اے نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ اس کے مجید بریگیڈ نے کیا۔ تنظیم ماضی میں بھی میر شفیق الرحمان مینگل، ان کے اہلِ خانہ اور حامیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

 

میر شفیق الرحمان مینگل سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے صاحبزادے ہیں اور ان کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے ہے۔ وہ پہلے جھالاوان عوامی پینل سے وابستہ رہے اور بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ گزشتہ سال ان کے بھائی میر عطاالرحمان مینگل ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری بھی کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

 

ماضی میں میڈیا رپورٹس اور  سرکاری دستاویزات میں میر شفیق الرحمان مینگل کے کالعدم لشکرِ جھنگوی اور عالمی شدت ہسند تنظم داعش سے مبینہ روابط کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان رپورٹس میں سندھ کے اہم دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب ملزم حفیظ بروہی کے ساتھ تعلقات کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔

 

مجید بریگیڈ کا نام پہلی بار 2011 میں کوئٹہ میں میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں اس گروہ نے دالبندین میں چینی انجینیئروں پر حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، گوادر کے پی سی ہوٹل، کراچی اسٹاک ایکسچینج، کراچی یونیورسٹی، بیلہ، تربت اور جعفر ایکسپریس پر حملوں سمیت متعدد بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی۔

 

سرکاری حکام نے خضدار حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C