11/July/2026

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع شدت اختیار کر گیا

👁️ 178 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع شدت اختیار کر گیا

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع شدت اختیار کر گیا

تہران/واشنگٹن (ڈیلی اردو) ایران میں جمعرات کو ہونے والے فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ان حملوں میں جنوبی ایران کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے آخری مراحل جاری تھے۔

 

ایرانی حکام نے تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی ملک یا گروہ پر عائد نہیں کی، تاہم ایک ایرانی رکن پارلیمان نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی۔

 

خلیجی عرب ممالک، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران خود بھی متعدد مرتبہ ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، نے ان فضائی حملوں پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

 

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ اور خلیجی ممالک عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

 

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہونا چاہیے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو تہران کو فیس ادا کرنی چاہیے، جبکہ عالمی برادری طویل عرصے سے اس راستے کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھتی رہی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

 

جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں ایرانی سرگرمیوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں دباؤ پیدا ہوا تھا، تاہم 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ایران میں فضائی حملوں کا ایک مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے دوران تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

 

اس اعلان کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے بوشہر، سیستان و بلوچستان، اہواز، چاہ بہار اور دیگر علاقوں میں دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات نشر کیں۔

 

امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کی صبح ہونے والی کارروائیوں کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی نیا فضائی حملہ نہیں کیا۔

 

ایران نے ان حملوں کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے بحرین، اردن، کویت اور قطر میں مبینہ میزائل حملے کیے۔ ان ممالک میں فضائی حملوں کے خدشے کے باعث سائرن بجائے گئے اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے۔ کویت میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

 

تازہ ایرانی حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کویت کا دورہ کیا اور کویتی قیادت سے ملاقات کی۔

 

دوسری جانب خلیجی ممالک نے قطر کے وزیر خارجہ سے رابطے کیے۔ قطر کے وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، جن کا مقصد جنگ بندی اور عبوری امن معاہدے کو برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ بڑے تصادم سے بچنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C