08/July/2026

امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد

👁️ 7 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد

امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) امریکہ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ایران کی تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف "طاقتور حملوں کا سلسلہ" شروع کر دیا ہے تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں معصوم شہریوں پر مشتمل تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت وصول کی جا سکے۔

 

سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ مبینہ جارحیت بلاجواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔

 

امریکی حکام کے مطابق حملوں کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی (کوسٹل سرویلنس) کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز، اینٹی شپ کروز میزائل تنصیبات اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

 

حملوں کے بعد بندر عباس سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جبکہ ایرانی میڈیا نے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ساحلی شہر سیرک میں درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ قشم اور بندر عباس میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔

 

سرکاری ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بندر عباس میں فشنگ پیئر کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ماہی گیروں کی کشتیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔

 

رپورٹس کے مطابق سیرک کے کمرشل پیئر پر امریکی حملے کے دوران میزائل کے ٹکڑے لگنے سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

 

ایرانی میڈیا نے مزید بتایا کہ جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے اپنا دورۂ عراق مختصر کرتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔

 

دوسری جانب امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے اس کے تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔

 

امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران کو 21 اگست تک خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے نئی پابندیوں کے ذریعے اس رعایتی مدت کو کم کر کے 17 جولائی تک محدود کر دیا ہے۔

 

امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایران نے نئی پابندیوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

 

ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی واشنگٹن پر عائد ہوگی۔ وزارت کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے امریکی اقدامات کا مناسب جواب دے گا۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ نے عبوری مفاہمت کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد واشنگٹن نے اپنی پالیسی سخت کرتے ہوئے فوجی کارروائی اور معاشی پابندیوں دونوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C