08/July/2026

بلوچستان: زیارت میں طالبان کے حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت 10 پولیس اہلکار ہلاک، متعدد لاپتا

👁️ 6 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: زیارت میں طالبان کے حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت 10 پولیس اہلکار ہلاک، متعدد لاپتا

بلوچستان: زیارت میں طالبان کے حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت 10 پولیس اہلکار ہلاک، متعدد لاپتا

واشنگٹن (ش ح  ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی ڈیم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک خونریز حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت 10 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ حملے کے بعد 21 اہلکار لاپتا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں 8 اہلکار بحفاظت واپس پہنچ گئے، تاہم باقی اہلکاروں کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

 

سرکاری حکام کے مطابق پیر کو دہشت گردوں کے ایک بڑے گروپ نے مانگی ڈیم فیز تھری کے تعمیراتی مقام پر قائم پولیس چوکی پر حملہ کیا، جہاں تعینات اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی۔ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

 

ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے تصدیق کی کہ حملہ مانگی ڈیم کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پولیس اہلکار تعمیراتی منصوبے کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔

 

ان کے مطابق حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت کم از کم 10 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ متعدد اہلکار لاپتا بھی ہوئے۔

 

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ حملے کے پیچھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے سرکاری سطح پر "فتنہ الخوارج" کہا جاتا ہے، ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشن کیا، جو مکمل کر لیا گیا ہے۔

 

پولیس حکام کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی مکمل ہونے کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔

 

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حملے میں دو افسران سمیت کم از کم 10 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ایک دور افتادہ علاقے میں 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی لڑائی کے باعث زخمی اہلکاروں کی درست تعداد کا فوری تعین نہیں ہو سکا۔ 

 

ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں اسی نوعیت کے کم از کم دو دہشت گرد حملوں کی کوششیں بھی کی جا چکی تھیں۔

 

حملے کے بعد 21 پولیس اہلکار لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم بعد ازاں 8 اہلکار واپس آ گئے۔

 

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچ پہنچ گئے، جبکہ رضوان نامی ایک کانسٹیبل کو بھی بازیاب کر لیا گیا۔ تاہم انہوں نے باقی لاپتا اہلکاروں کی بازیابی کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے دوران اس نے پولیس کی ایک گاڑی اور درجنوں سرکاری ہتھیار قبضے میں لے لیے۔ اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

 

واقعے کے خلاف پیر کی شب سے ضلع پشین کے خانوزئی کراس کے مقام پر قومی شاہراہ پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران مسلح افراد کی بڑی تعداد علاقے میں داخل ہوئی اور 20 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لاپتا اہلکاروں کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

 

بلوچستان حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کے چیئرمین محمد علی کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

 

کمیٹی کو حملے کے تمام پہلوؤں، سیکیورٹی انتظامات، ذمہ داریوں اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر غفلت برتنے کے الزام میں ایس پی زیارت کو معطل کر دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

بلوچستان، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور افغانستان و ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C