22/October/2026

ایرانی فوج غیر روایتی جنگ کے لیے تیار، ڈرون صلاحیتیں بڑھانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی فوج غیر روایتی جنگ کے لیے تیار، ڈرون صلاحیتیں بڑھانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی فوج غیر روایتی جنگ کے لیے تیار، ڈرون صلاحیتیں بڑھانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران (ڈیلی اردو) ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید بہتر بنالیا ہے اور اس کی مسلح افواج غیر روایتی اور غیر متناسب جنگ سمیت مختلف نوعیت کے ممکنہ تنازعات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں میں داخل ہونے والے دشمن جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، بحری آمدورفت اور خطے میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات برقرار ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، میجر جنرل امیر حاتمی نے تہران میں فوجی ڈرون تیار کرنے والے ایک مرکز کے دورے کے دوران کہا کہ ایرانی مسلح افواج، بالخصوص بری فوج، کو ملک کی سلامتی برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کے بقول، بدلتی ہوئی جنگی صورتِ حال کے پیش نظر ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔

حاتمی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج نے غیر متناسب جنگ کے لیے درکار سازوسامان، افرادی قوت اور عملی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج ڈرونز کی تیاری، متعلقہ یونٹوں تک ان کی فراہمی، دیکھ بھال اور اہلکاروں کی تربیت پر کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق، ڈرونز، بغیر پائلٹ بحری جہاز اور چھوٹے مائیکرو ڈرونز جدید جنگ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ فوجی ڈرون پروگرام ابتدا میں وزارتِ دفاع کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا، تاہم اب اس میں جامعات، تکنیکی ماہرین اور علم پر مبنی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری سے ملک کی عسکری ضروریات پوری کرنے اور بیرونی پابندیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ایرانی ڈرون پروگرام کی حقیقی عملی صلاحیت اور اس کے مختلف نظاموں کی کارکردگی سے متعلق آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات محدود ہیں۔

ایرانی فوج کے سربراہ نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے اور بحیرۂ عمان میں موجود ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ مغربی حصے میں سرگرم ہے۔ ان کے مطابق، ایران ان سمندری راستوں پر اپنے ضوابط نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 14 اکتوبر کی رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کررہا ہے اور ایسے جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جنہیں ایران اپنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، اس آبی گزرگاہ میں بڑھتی کشیدگی نے تجارتی جہاز رانی اور عالمی تیل و گیس کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ 

ایران کے ڈرون پروگرام کے حوالے سے رائٹرز نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب آلہ پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ امریکی حکام نے اس معاملے پر الگ مؤقف اختیار کیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ موجودہ تنازع میں بغیر پائلٹ فضائی اور بحری نظام کس طرح اہمیت اختیار کررہے ہیں۔ 

ایرانی فوج کے سربراہ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنی دفاعی تیاریوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کو نمایاں کررہا ہے، تاہم ایرانی حکام کے دعووں سے ان نظاموں کی حقیقی جنگی کارکردگی یا مستقبل میں کسی کارروائی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئے فوجی تصادم کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C