25/December/2025

ایران: افغان سابق اعلیٰ پولیس جنرل تہران میں ٹارگٹ حملے میں ساتھی سمیت ہلاک، ایک زخمی

👁️ 224 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: افغان سابق اعلیٰ پولیس جنرل تہران میں ٹارگٹ حملے میں ساتھی سمیت ہلاک، ایک زخمی

ایران: افغان سابق اعلیٰ پولیس جنرل تہران میں ٹارگٹ حملے میں ساتھی سمیت ہلاک، ایک زخمی

تہران (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغان اپوزیشن نے ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کے ایک سابق اعلیٰ سیکیورٹی افسر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق جنرل اکرام الدین سَری، جو شمال مشرقی صوبے تخار کے سابق پولیس سربراہ تھے، بدھ کے روز ایک ٹارگٹ حملے میں اپنے ایک ساتھی سمیت ہلاک ہو گئے۔

 

سابق افغان حکومت کے دور میں صوبہ بغلان اور تخار کے پولیس کمانڈر رہنے والے اکرام الدین سری ایران کے دارالحکومت تہران میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

 

واقعے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اکرام الدین سری کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً ساڑھے سات بجے اُس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ تہران میں اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔

 

ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد اکرام الدین سری کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم سر پر گہرے زخم آنے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے میں ان کے ساتھ موجود دو ساتھیوں میں سے ایک بھی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔

 

ایرانی پولیس نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ کسی بھی گروہ نے فائرنگ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

 

افغانستان کی طالبان حکومت کے مخالف عسکری گروہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی میثم نظری نے سوشل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں اکرام الدین سری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس واقعے میں طالبان حکومت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

دوسری جانب طالبان حکومت نے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں وہ افغانستان کی سرحدوں سے باہر کسی بھی قسم کی سیکیورٹی یا فوجی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔

 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران میں طالبان مخالف شخصیات کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ چار ماہ قبل ایرانی شہر مشہد میں مقیم ایک افغان جہادی کمانڈر معروف غلامی بھی نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

 

اکرام الدین سری 2021 سے تہران میں مقیم تھے۔ انہوں نے 2017 سے 2019 تک سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور حکومت میں صوبہ بغلان کے پولیس کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں انہیں صوبہ تخار کا پولیس کمانڈر مقرر کیا گیا۔

 

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 2021 میں وہ ایران منتقل ہو گئے تھے اور تب سے تہران میں رہائش پذیر تھے۔ بی بی سی کو ذرائع نے بتایا کہ اکرام الدین سری سابق افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ سرگرم تھے تاکہ ایرانی حکومت سے رہائشی اجازت نامہ حاصل کیا جا سکے، جس کے تحت سابق فوجیوں کو ایران سے افغانستان واپس بھیجے جانے سے تحفظ ملتا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق واقعے سے کچھ دیر قبل اکرام الدین سری کو ایک فون کال موصول ہوئی تھی، جس میں کال کرنے والے نے اپنی ایک مشکل حل کرنے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔

 

افغانستان میں جمہوری نظام کے خاتمے اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغان فوج اور پولیس کے ہزاروں سابق اہلکار ایران میں پناہ گزین ہوئے، جن میں سے بڑی تعداد اب بھی وہاں مقیم ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری میں اضافے کے بعد یہ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کہ ان میں ایسے سابق فوجی شامل ہو سکتے ہیں جن کی زندگیاں افغانستان واپس جانے پر خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

 

تاہم طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ 2021 میں عام معافی کے اعلان کے بعد سابق افغان حکومت کے کسی بھی رکن کو ان کی جانب سے باضابطہ طور پر مقدمات یا کارروائی کا سامنا نہیں ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C