09/April/2026

ایران جنگ میں سیزفائر، ترک سیکرٹ سروس نے بھی کردار ادا کیا

👁️ 225 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران جنگ میں سیزفائر، ترک سیکرٹ سروس نے بھی کردار ادا کیا

ایران جنگ میں سیزفائر، ترک سیکرٹ سروس نے بھی کردار ادا کیا

انقرہ (ڈیلی اردو/روئٹرز/ٹی آر ٹی) ترکی کے سرکاری خبر رساں چینل ٹی آر ٹی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیشنل انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) ان چند اداروں میں شامل تھی، جو مغربی ممالک اور ترکی کے ہمسایہ ملک ایران حتٰی کہ اس کی ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ بھی براہ راست رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق ایم آئی ٹی نے رابطے کے چینلز کھلے رکھنے، غلط فہمیوں کو روکنے، کشیدگی کم کرنے کے لیے پیغامات پہنچانے، مزید تصادم سے بچنے کے لیے تجاویز پیش کرنے اور مختلف انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ رابطہ کاری میں کردار ادا کیا۔

 

روئٹرز کے مطابق اس رپورٹ پر تبصرے کے لیے ایم آئی ٹی سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

 

اگرچہ ثالثی کی قیادت پاکستان نے کی، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ ترکی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے فروری کے آخر میں انقرہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی کوشش بھی کی تھی۔

 

ترکی میں مقیم ایک سفارت کار نے بھی بتایا کہ حالیہ ہفتوں کی بات چیت میں انقرہ نے اہم معاون کا کردار ادا کیا۔

 

ترک صدر رجب طیب ایردوآن، جن کا ملک امریکہ کا نیٹو اتحادی ہے اور جس کی اپنی قومی سرحد ایران سے بھی ملتی ہے، نے بدھ کے روز جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس فائر بندی پر مکمل عمل درآمد کی اپیل کی اور کسی بھی اشتعال انگیزی یا تخریبی کارروائی کے خلاف خبردار بھی کیا۔

 

صدر ایردوآن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ''ہم گزشتہ رات اعلان کردہ جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، اس جنگ نے 28 فروری سے ہمارے خطے کو میدان جنگ بنا رکھا تھا۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ کو امید ہے، ''جنگ بندی پر زمینی سطح پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی یا تخریبی کاری کا موقع نہیں دیا جائے گا۔‘‘

 

صدر ایردوآن نے اس کامیاب ثالثی پر پاکستان کو بھی مبارک باد دی۔

 

اس سے قبل انقرہ میں ترک وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں ''عارضی جنگ بندی کے مکمل طور پر زمینی سطح پر نفاذ کی ضرورت‘‘ پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ تمام فریق اس معاہدے کی پابندی کریں گے۔

 

انقرہ نے کہا کہ پائیدار امن کا راستہ صرف ''مکالمت، سفارت کاری اور باہمی اعتماد‘‘ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 

ترک وزارت خارجہ نے مزید کہا، ''ہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔‘‘

 

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی مقرر کردہ آخری ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً 90 منٹ قبل دو ہفتوں کی محدود جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا، جس سے اس لڑائی میں ایک عارضی وقفہ آ گیا، جو ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے جاری تھی۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C