11/September/2026

جنوبی وزیرستان: گرلز سکولوں کو دھمکیوں سے ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ

👁️ 44 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی وزیرستان: گرلز سکولوں کو دھمکیوں سے ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ

جنوبی وزیرستان: گرلز سکولوں کو دھمکیوں سے ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ

جنوبی وزیرستان (ڈیلی اردو)خیبرپختونخواہ کے شورش زدہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کے مختلف علاقوں میں گرلز سکولوں کو بند کرنے کی مبینہ دھمکیوں کے بعد طالبات کی تعلیم ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق برمل، وانا اور توئی خلہ کے بعض علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گرلز تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی وارننگز دی گئی ہیں۔ صورتحال کے باعث ضلع بھر میں ہزاروں طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر میں 184 سرکاری جبکہ 18 سے زائد نجی گرلز سکول قائم ہیں۔ سیکیورٹی اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث پہلے ہی متعدد تعلیمی ادارے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان نے بعض علاقوں میں گرلز سکولوں کو بند کرنے کی دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ تعلیمی اداروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی انٹیلی جنس سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

ڈی ایس پی نادر وزیر کے مطابق برمل، وانا اور توئی خلہ کے کچھ علاقوں سے مسلح افراد کی جانب سے دھمکیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم کسی تنظیم یا گروہ نے اب تک ان دھمکیوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ سکول انتظامیہ کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ مقدمہ یا رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔

ادھر وانا کے مختلف علاقوں میں بعض گرلز اور بوائز سکولوں کو رات کے وقت مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد کے ذریعے نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جنان کوٹ کا گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اس سے قبل ایک دھماکے کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت سکول بند ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

جنان کوٹ گرلز ہائی سکول کی طالبہ نبیلہ وزیر کے مطابق سکول کی عمارت تباہ ہونے کے بعد 400 سے زائد طالبات اپنی تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہوگئی ہیں۔ نبیلہ وزیر نے میٹرک کے امتحان میں 1200 میں سے 1071 نمبر حاصل کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مناسب مواقع محدود ہیں جبکہ فعال گرلز کالج نہ ہونے کے باعث طالبات کو مزید تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نبیلہ وزیر نے بھی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہونے پر غور کرنے کا بتایا۔

برائٹ فیوچر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی سربراہ گل نسا وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ سکولوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور طالبات کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے مؤثر اور مستقل حکمت عملی مرتب کی جائے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خواتین شازیہ نواز نے معاملے پر مؤقف دینے سے گریز کیا، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اسسٹنٹ آفیسر مہران گل نے تعلیمی اداروں کو فعال بنانے کے لیے کوششیں جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔

جنوبی وزیرستان لوئر میں تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ جون 2026 میں تحصیل برمل کے علاقے سارا گھوڑہ میں ایک سرکاری گرلز پرائمری سکول کو بھی دھماکا خیز مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C