28/January/2026

ایران پر ممکنہ حملہ: امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا!

👁️ 500 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر ممکنہ حملہ: امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا!

ایران پر ممکنہ حملہ: امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا!

واشنگٹن (ڈیلی اردو) ایران میں ملک گیر احتجاج اور مظاہرین کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

 

اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے‘ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی فارسی کا فیکٹ فائنڈنگ کا شعبہ گزشتہ چند ہفتوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

 

حالیہ ہفتوں میں جن بحری جہازوں نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے، ان میں سے ایک طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہے۔

 

جوہری طاقت سے چلنے والا یہ طیارہ بردار بحری جہاز سنہ 1989 سے امریکی بحریہ میں شامل ہے اور اسے سب سے بڑے اور جدید ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

 

اگرچہ جہاز نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھا ہے لیکن پھر بھی اسے مختلف طریقوں سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

 

اصولی طور پر اگر کوئی جہاز اپنا ٹریکنگ سسٹم بند بھی کر دیتا ہے تو وہ مکمل طور پر ’غائب‘ نہیں ہو سکتا۔

 

ہم فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے ذریعے اس بحرح جہاز کے اوپر سے پرواز کرنے والے امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو ٹریک کرنے اور اس کے ممکنہ مقام کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔

 

یہ ہیلی کاپٹر، جو عام طور پر مختلف مشنوں جیسے کہ گشت، دستوں کی نقل و حمل، یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے کیریئر کے ساتھ اڑتے ہیں، بعض اوقات ایسے نظام کا استعمال کرتے ہیں جن کو پرواز کے ڈیٹا میں ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

 

اس کے مطابق لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطی کی طرف اپنی نقل و حرکت شروع کی اور اس وقت (26 جنوری تک) اس کی ممکنہ پوزیشن عمان کے ساحل کے قریب ہے۔

 

’سینٹ کام‘ نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بحر ہند میں داخل ہو گیا۔ ’سینٹ کام‘ نے کہا کہ یہ جہاز مشرق وسطیٰ میں ’علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

 

’سینٹ کام‘ امریکی محکمہ دفاع کی مشرق وسطیٰ سے متعلق چھ کمانڈز میں سے ایک ہے۔ امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد عراق، افغانستان اور شام سینٹ کام کے سب سے اہم فعال آپریشنل علاقے تھے۔

 

یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک نظر میں

 

طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا نام امریکہ کے 16ویں صدر کے نام پر رکھا گیا تھا اور اسے 11 نومبر 1989 کو امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا۔

 

یہ جہاز امریکی بحریہ کی ٹاسک فورس کا حصہ ہے، جس میں اس کے علاوہ تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی شامل ہیں: یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر، یو ایس ایس سپروانس، اور یو ایس ایس مائیکل مرفی۔

 

اس طیارہ بردار بحری جہاز میں تقریباً چھ ہزار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے۔

 

اس کی چوڑائی 333 میٹر اور چوڑائی تقریباً 77 میٹر ہے۔ یہ بحری جہاز تقریباً 100,000 ٹن کی نقل مکانی کے ساتھ، 30 ناٹس (56 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔

 

یہ جہاز پہلے بھی کئی بار خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ اسے ’آپریشن ڈیزرٹ سٹورم‘ کے دوران خطے میں تعینات کیا گیا تھا، ایک ایسا مشن جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں عراق کو کویت سے نکالنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

 

1995، 1998، اور 2000 میں یہ طیارہ بردار بحری جہاز امریکی محکمہ دفاع کے گشتی آپریشن، جسے ’سدرن واچ‘ کہا جاتا ہے، میں حصہ لینے کے لیے خلیج فارس گیا۔

 

یہ بحری جہاز 2002 کے آخر میں، عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے موقع پر دوبارہ اس خطے میں گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C