15/March/2026

ایران کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل، اسرائیل

👁️ 148 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل، اسرائیل

ایران کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل، اسرائیل

یروشلم (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اب ’فیصلہ کن  مرحلے‘ میں داخل ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ’جب تک ضروری ہوا، جاری رہے گی‘۔

 

اسرائیل کاٹز نے یہ بات ہفتہ 14 مارچ کے روز ایک ایسے وقت پر کہی، جب مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مختلف شہروں میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 

ان حملوں میں عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے پر کیا جانے والا حملہ اور خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں تیل کی ایک بڑی تنصیب گاہ پر کیا جانے والا بڑا حملہ بھی شامل تھے۔

 

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد اس عمارت سے گہرے دھوئیں کے بادل فضا میں اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔

 

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ میں اب تک دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایران نے عراق میں امریکی سفارت خانے کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

 

اس جنگ کی وجہ سے اب تک خطے میں ڈرونز، جنگی طیاروں اور میزائلوں سے کیے جانے والے حملوں کے باعث مجموعی طور پر کئی ملین انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔

 

دریں اثنا یہ مسلح تنازعہ آج ہفتے کے روز اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور اب تک اس جنگ کے باعث صرف ایران ہی میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ ابھی تک اس تنازعے کی شدت میں کمی یا اس کے خاتمے کے کوئی فوری آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔

 

نیوز ایجنسی اے ایف ہی نے لکھا ہے کہ آج جس وقت اسرائیلی وزیر دفاع یہ کہہ رہے تھے کہ ایران جنگ اب اپنے ’فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو رہی ہے، عین اسی وقت متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں تیل کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والی ایک بڑی تنصیب گاہ سے بھی ایرانی حملوں کے بعد گہرا دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

 

یہ تنصیب گاہ اماراتی تیل کی برآمد کے لیے ایک ایکسپورٹ ٹرمینل اور بڑی ذخیرہ گاہ کا کام کرتی ہے اور وہاں حملہ ایران کی اس حالیہ دھمکی کے بعد کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں عام لوگ بندرگاہی علاقوں سے دور رہیں۔

 

جہاں تک اس جنگ میں ایرانی عسکری کارروائیوں کا تعلق ہے، تو تہران کی طرف سے اب تک امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں خطے کے کم ازکم 10 ممالک پر نہ صرف ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے جا چکے ہیں، بلکہ تہران نے عالمی منڈیوں کو خام تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم لیکن خلیج فارس کے تنگ سمندری راستے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر رکھا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C