17/September/2026

ایف آئی اے ریڈ بک میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشتگردوں کی تعداد سب سے زیادہ

👁️ 113 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایف آئی اے ریڈ بک میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشتگردوں کی تعداد سب سے زیادہ

ایف آئی اے ریڈ بک میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشتگردوں کی تعداد سب سے زیادہ

اسلام آباد(ڈیلی اردو)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی 2026ء کی دہشتگردی سے متعلق ریڈ بک میں شامل 1,804 ہائی پروفائل اور انتہائی مطلوب افراد میں سے 1,179 کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں صوبے کا حصہ نمایاں ہے، تاہم ان ناموں کو صوبے میں اس وقت سرگرم افراد کی تعداد تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ریڈ بک بنیادی طور پر مطلوب افراد کا ریکارڈ ہے، جس میں مختلف مقدمات، تنظیمی وابستگیوں، کردار اور ممکنہ مقامات سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔ اس لیے فہرست میں موجود ہر شخص کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس وقت خیبر پختونخوا میں موجود یا کسی کارروائی میں سرگرم ہے۔

خیبر پختونخوا میں مطلوب دہشتگردوں کی زیادہ تعداد کی وجوہات میں صوبے کا افغانستان کے ساتھ طویل سرحدی علاقہ، دشوار گزار پہاڑی خطے، سابق قبائلی اضلاع اور سرحد کے دونوں جانب موجود تاریخی آمدورفت کے راستے اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے جغرافیائی حالات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے غیر قانونی نقل و حرکت اور خفیہ نیٹ ورکس کی نگرانی کو مشکل بناتے ہیں۔

افغانستان سے جڑا سیکیورٹی معاملہ بھی اس صورتحال میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان متعدد مرتبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں مبینہ ٹھکانوں پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ سرحدی علاقوں میں ہونے والی جھڑپیں اور سیکیورٹی کارروائیاں بھی دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کے مسئلے کی سرحد پار نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

ریڈ بک میں صرف ایک تنظیم سے وابستہ افراد شامل نہیں بلکہ مختلف دہشتگرد گروہوں سے منسلک مطلوب افراد کے نام موجود ہیں۔ ان میں ٹی ٹی پی، لشکر طیبہ، جیش محمد، جماعت الاحرار، لشکر اسلام، بلوچستان لبریشن آرمی، لشکر جھنگوی، داعش خراسان اور القاعدہ برصغیر سے وابستہ افراد شامل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا مسئلہ سابق قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور، ہنگو، کوہاٹ، کرک، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر اضلاع بھی مختلف اوقات میں دہشتگردی اور سیکیورٹی سے متعلق واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی جاری رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ریڈ بک میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 1,179 افراد کے نام درج ہونا 1,179 الگ دہشتگرد گروہوں یا فعال جنگجوؤں کی موجودگی کا ثبوت نہیں۔ بعض افراد ایک ہی نیٹ ورک سے وابستہ ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ کے خلاف مخصوص مقدمات یا دیگر قانونی معاملات کی بنیاد پر کارروائی مطلوب ہو سکتی ہے۔

ایف آئی اے کا انسداد دہشتگردی ونگ دہشتگردی اور دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق تحقیقات سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ مطلوب افراد کا منظم ریکارڈ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور تحقیقات میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائی صرف مطلوب افراد کی فہرست مرتب کرنے تک محدود نہیں رہتی۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے مطلوب افراد کی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع، اسلحہ و بارود کی ترسیل، بھرتی کرنے والے عناصر اور رابطہ کاری کے نیٹ ورکس کا سراغ لگانا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ریڈ بک میں خیبر پختونخوا سے متعلق اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے چیلنج میں صوبہ ایک اہم خطہ ہے۔ افغانستان سے قربت، پیچیدہ جغرافیہ اور گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات نے یہاں کی سیکیورٹی صورتحال کو قومی انسداد دہشتگردی پالیسی کا اہم حصہ بنا رکھا ہے۔

فہرست میں شامل ناموں کی اصل اہمیت اس امر سے جڑی ہے کہ ان معلومات کو کس حد تک استعمال کرتے ہوئے مطلوب افراد اور ان سے وابستہ نیٹ ورکس تک پہنچا جاتا ہے۔ یوں 1,179 نام محض ایک عدد نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری قانونی، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کوششوں کے حجم کی ایک تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔


 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C